تفہیماتِ ربانیّہ — Page 429
پہلے سے لکھ دیا تھا کہ یہ تمام اصحاب خصلت صدق وصفار رکھتے ہیں ان میں سے کئی آدمی جیسے ڈاکٹر عبد الحکیم خاں وغیرہ مرزا صاحب سے پھر گئے۔اور نہ صرف پھر ہی گئے بلکہ مرزا صاحب کی مخالفت میں عمر بھر کوشش کرتے رہے۔خواجہ کمال الدین ، مولوی محمد احسن، مولوی عبد اللہ خاں ، مولوی محمد علی وغیرہ لاہوری پارٹی والے مرزا صاحب کی رسالت کے منکر اور قادیانی پارٹی کی نظر میں خارج از میرزائیت ہیں۔اسلئے جہاں مرزا صاحب کی یہ دعا نا مقبول ٹھہری وہاں یہ (۳۱۳) والا ڈھکوسلا بھی باطل ثابت ہوا۔اور کم از کم جو پیشگوئی مرزا صاحب نے اپنے اوپر چسپاں کی تھی اس کی رو سے مرزا صاحب مہدی ثابت نہ ہوئے۔“ (عشرہ صفحہ ۹۴) الجواب۔اس اعتراض کی کئی شاخیں ہیں اسلئے سب سے پہلے ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ کیا یہ تین سو تیرہ اصحاب والی پیشگوئی ڈھکوسلہ ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس حدیث کا حوالہ اسی جگہ درج فرمایا ہے۔مگر معترض پٹیالوی کی دیانت نے اجازت نہ دی کہ تین سطریں پہلے بھی درج کرے تا کہ حوالہ بھی نقل ہو جائے۔اب وہ عبارت ہم درج کرتے ہیں۔حضور تحریر فرماتے ہیں کہ : «شیخ علی حمزہ بن علی ملک الطوسی اپنی کتاب جواہر الاسرار میں جو ۸۴۰ ہجری میں تالیف ہوئی تھی مہدی موعود کے بارے میں مندرجہ ذیل عبارت لکھتے ہیں۔در اربعین آمده است که خروج مهدی از قریه کده باشد قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ الْمَهْدِيُّ مِنْ قَرْيَةٍ يُقَالُ لَهَا كَدْعَةٌ وَيُصَدِّقُهُ اللهُ تَعَالَى وَيَجْمَعُ اصْحابَهُ مِنْ أَقْصَى الْبِلَادِ عَلَى عِدَّةِ أَهْلِ بَدْرٍ بِقَلَاثِ مِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا وَمَعَهُ صَحِيفَةٌ مَختُومَةٌ (اے مَطبُوعَةٌ) فِيْهَا عَدَدُ أَصْحَابِهِ بِأَسْمَائِهِمْ وَبِلَادِهِمْ وَخِلالِهِمْ - (ضمیمه انجام آتھم صفحه ۴۰-۴۱) معلوم ہوا یہ حدیث تو موجود ہے ڈھکوسلہ نہیں۔اور یہ بھی واضح ہے کہ حضرت مسیح موعود 1ء یہ دعویٰ بالکل غلط ہے۔ہم لاہوری پارٹی والوں کو احمدی ہی کہتے ہیں۔نیز وہ بھی حضرت مسیح موعود وظلی نبی اور ظلی رسول مانتے ہیں۔ہاں مخالفین سے ڈر کر یا غلطہ نہمی سے خلقی نبی کی تشریح محض محمد حمیت کرتے ہیں۔پورے طور پر نہ سہی مگر ع کا خر کنند دعوای حب پیمبرم (مؤلف) (429)