تفہیماتِ ربانیّہ — Page 397
(ج) ازالہ اوہام میں جو دعویٰ تھا اس کے اثبات کے لئے جتنا حصہ ضروری النقل تھا وہ وہاں درج کر دیا گیا۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کسی جگہ بھی حصہ وَلَن تُؤْمِنَ لِرُقِتِكَ حَتَّى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتبًا نَّقْرَؤُہ کا ذکر نہیں فرمایا۔اور اگر معترض پٹیالوی کی تاژ خائی درست ہوتی تو چاہئے تھا کہ حضرت کی کسی تحریر یا کسی کتاب میں اس حصہ کا ذکر نہ ہوتا۔لیکن واقعات اس کے برخلاف ہیں۔پس معلوم ہوا کہ ازالہ اوہام میں محض مقام کی مناسبت سے یہ حصہ رہ گیا ہے۔کیونکہ دوسری متعدد کتب میں اس کا ذکر موجود ہے۔بطور نمونہ دو مقام درج ذیل ہیں :- ’ہاں مکہ کے لوگوں نے یہ نشان مانگا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر سونے کا ہو جائے اور اس کے ارد گرد نہریں بھی جاری ہوں۔اور نیز یہ کہ آپ ان کے دیکھتے ہوئے آسمان پر چڑھ جائیں اور دیکھتے دیکھتے آسمان پر سے اُتر آئیں اور خدا کی کتاب ساتھ لاویں اور وہ اس کو ہاتھ میں لیکر سٹول بھی لیں تب ایمان لائیں گے۔اس درخواست میں اگر چہ جہالت تھی لیکن میاں عبد الحق کی طرح ایذا دینے والی شرارت نہ تھی۔۔۔قرآن شریف میں اقتراحی نشانوں کے مانگنے والوں کو یہ جواب دیا گیا تھا کہ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنتُ إِلَّا بَشَرًا رسُولًا یعنی خدا کی شان اس تہمت سے پاک ہے کہ کسی اس کے رسول یا نبی یا ملہم کو یہ قدرت حاصل ہو کہ جو الوہیت کے متعلق خارق عادت کام ہیں ان کو وہ اپنی قدرت سے دکھلائے۔اور فرمایا کہ ان کو کہہ دے کہ میں تو صرف آدمیوں میں سے ایک رسول ہوں۔جو اپنی طرف سے کسی کام کے کرنے کا مجاز نہیں ہوں۔“ (تحفہ غزنویہ صفحہ ۹) (۲) آپ سے کفار قریش نے تمام تر اصرار یہ معجزہ طلب کیا تھا کہ آپ ہمارے روبرو آسمان پر چڑھ جائیں اور کتاب لیکر آسمان سے اتریں تو ہم سب ایمان لے آویں گے اور ان کو یہ جواب ملا تھا قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا (397