تفہیماتِ ربانیّہ — Page 396
جسم خاکی آسمان پر نہیں جاسکتا۔اس کا ثبوت قرآن شریف کی آیت ذیل سے دیتے ہیں۔“ (عشرہ صفحہ ۸۷) اب سوال یہ ہے کہ جب موضوع بحث صرف اس قدر تھا کہ ”جسم خاکی آسمان پر نہیں جاسکتا تو اس صورت میں آیت کا ایک حصہ جو اس موضوع سے بالذات متعلق نہیں اس کو چھوڑ دیا جائے تو کیا دنیا کا کوئی بھی شریف انسان اسے بھاری دھوکہ“ کہہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔چونکہ حصہ وَلَنْ نُؤْمِنَ لِرُقِيَّكَ حَتَّى تُنَزِلَ عَلَيْنَا كِتَبًا نَّقْرَؤُهُ براه راست اس موضوع بحث کی تائید یا تردید نہیں کرتا بلکہ یہ تو کفار کی طرف سے آسمان پر جانے کی صورت میں مزید شرط یا فرع ہے۔اس لئے حضرت اقدس نے صرف حصہ مطلوبہ کو ذکر کر دیا۔حضرت امام بخاری کا بھی یہی اسلوب ہے۔پھر دیکھئے حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی کا بھی یہی طریق ہے لکھا ہے :۔(۱) باید دانست که در مثل وَلَوتَرى إِذِ الظَّلِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَلَوْيَرَى الَّذِينَ ظَلَمُوا إِذْ يَرَونَ الْعَذَابَ اصل آنست که جواب شرط محذوف باشد “ ( الفوز الكبير صفحه ۲۵) (۲) واز در مواضع بسیار تو کید وصلت باشد نه برائے عطف إِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ وَكُنتُمْ أَزْوَاجاً ثَلَاثَةٌ وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ “ ( الفوز الكبير صفحه ۲۹) پہلے اور دوسرے دونوں حوالوں میں مختلف مقامات کی آیات کے ٹکڑوں کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے اور زیر بحث مضمون سے غیر متعلق حصہ کو ترک کر دیا ہے۔کیا معترض پٹیالوی کے نزدیک حضرت شاہ صاحب نے نعوذ باللہ بھاری دھوکہ دیا ہے اور کلام الہی میں ”چوری کی ناپاک کوشش کی ہے؟ اگر نہیں اور ہرگز نہیں تو حضرت مرزا صاحب پر اعتراض کیوں؟ میں معترض پٹیالوی سے پھر پوچھتا ہوں کہ کیا خود اس نے اعتراض کرتے وقت اسی مقام پر آیت کے حصہ اَو يَكُونَ لَكَ بَيْتُ منْ زُخْرُفِ کو دانستہ چھپا کر بھاری دھوکہ دیا ہے بے بندہ پرور منصفی کر نا خُد اکو دیکھ کر ! (396)