تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 398 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 398

<< بشرا رسُولًا یعنی میں ایک بشر ہوں اور خدا تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ وعدہ کے بر خلاف کسی بشر کو آسمان پر چڑھاوے۔“ ( لیکچر سیالکوٹ صفحہ ۲۳) یہ بیانات بھی معترض پیالوی کی کھلی کھلی تر دید ہیں۔اے کاش کہ حق کی دشمنی ان لوگوں کو اتنا ذلیل نہ کرتی۔( د ) جس شخص نے ایک دفعہ بھی ازالہ اوہام کے اس مقام کو دیکھا ہوگا وہ معترض پٹیالوی کی افسوسناک حرکات پر رنجیدہ ہوگا۔کیونکہ ازالہ اوہام کے اس موقع پر عبارت ترجمہ میں قریباً اڑھائی انچ بیاض ( خالی جگہ ) ہے۔جس سے صاف ظاہر ہے کہ اگر متذکرہ صدر وجوہات کو نہ بھی تسلیم کیا جائے تب بھی آیت کے ایک حصہ کا حذف اور اس کے ترجمہ کا ترک ہو جانا محض سہو کا تب ہے اس کو کذب بیانی سے دور کا تعلق بھی نہیں۔حَتَّى تُنَزِلَ عَلَيْنَا كِتَاباً نَقْرَؤُهُ کی تفسیر ہم سطور بالا میں معترض پیٹیالوی کے دعوی کی بفضلہ تعالیٰ ہر رنگ میں تردید کر چکے ہیں۔اب آخر میں اس کی علمی قابلیت ملاحظہ ہو۔حدیث صحیح میں لکھا ہے کہ تفسیر بالرائی کرنا (یعنی بجائے اس کے کہ انسان اپنی رائے کو قرآن مجید کے مطابق بنائے آیات قرآنی کو مروڑ کر اپنی رائے کے ماتحت کر دے) سخت گناہ ہے، ایسا شخص اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنالے۔معترض پیٹیالوی عنوان کی آیت کی تفسیر کس شان بے دردی سے کرتے ہیں۔لکھا ہے :- ان (کفار) کی صرف ایک درخواست نمبر ۶ ایسی تھی جو منظور ہو سکتی تھی یعنی پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمان پر چڑھنا۔مگر کفار کو اس سے بھی طلب حق مقصود نہ تھا اور نہ ایمان لانا چاہتے تھے۔وہ جانتے تھے کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم آسمان پر جاچکے ہیں۔اسلئے اس کے ساتھ ہی یہ شرط لگادی جس پر خط کھینچا گیا ہے۔اور یہی وہ شرط ہے جسے مرزا صاحب نے حذف کر دیا ہے اور اپنی کتاب میں درج نہیں کیا۔یہ کیسی لے اس الزام کا تفصیلی جواب گزر چکا ہے۔(مؤلف) (398)