تفہیماتِ ربانیّہ — Page 395
ترجمہ میں تصرف کے علاوہ مرزا صاحب نے یہاں ایک بڑا بھاری دھوکا دیا ہے۔اور کلام الہی میں چوری کی ناپاک کوشش کی ہے۔کیونکہ قرآن کریم کی اصل آیت کا ایک جزو ہی حذف کر دیا جو اس آیت کی جان ہے اصلی آیت سورہ بنی اسرائیل کے دسویں رکوع میں اس طرح پر ہے أَوْ تَرْقَى فِي السَّمَاءِ وَلَنْ تُؤْمِنَ لِرُقِيَكَ حَتَّى تُنَزِلَ عَلَيْنَا كِتبًا نَّقْرَؤُهُ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بشَرًا رَسُولًا آیت کا وہ حصہ جس پر خط کھینچا گیا ہے مرزا صاحب نے دانستہ چھپا لیا اور اپنی کتاب ازالہ اوہام میں درج نہیں کیا۔“ (عشرہ صفحہ ۸۸) 66 الجواب - (الف) اگر محض ایک حصہ آیت کا حذف ”بھاری دھوکا اور ” کلامِ الہی میں چوری کی ناپاک کوشش کہلاتا ہے تو بتائیے کہ آپ نے جتنا حصہ درج کیا اور اسے آیت قرار دیا ہے اس میں سے پوری آیت کا ایک حصہ آؤ يَكُونَ لَكَ بَيْتُ مِنْ زُخْرُفٍ دانسته چھپا کر آپ نے بھاری دھوکا دیا ہے یا نہیں ؟ اگر کہو کہ نہیں کیونکہ ساری آیت کا ذکر کرنا ضروری نہیں ہوتا بلکہ صرف محل استدلال حصہ کو بطور استشہاد ذکر کر سکتے ہیں۔تو میں کہتا ہوں کہ پھر آپ نے اس تیز زبانی سے کیوں کام لیا۔کیا حضرت مرزا صاحب کے متعلق یہی خیال نہ کر سکتے تھے ؟ منشی صاحب ! آپ نے محض ایک حصہ کے عدم ذکر کو بھاری دھوکا قراردیا۔خدا تعالیٰ نے یہ الزام آپ پر ہی ثابت کر دیا۔کیا اب بھی انی مهین من اراد اهانت کے الہام میں شبہ ہے؟ (ب) تم خود تسلیم کر چکے ہو کہ حضرت مرزا صاحب نے ازالہ اوہام کے صفحہ مذکورہ پر بحث میہ کی ہے کہ :۔1- تصرف نہیں بلکہ اس کو ترجمہ تفسیری کہتے ہیں۔مؤلف - سے ایک جزو تم نے بھی حذف کر دیا ہے کیونکہ پوری آیت یوں ہے آؤ يَكُونَ لَكَ بَيْتُ مِنْ زُخْرُفَ اَوْ تَرَقَى فِي السَّمَاءِ وَلَنْ نُؤْمِنَ لِرَقِيكَ حَتَّى تُنَزِلَ عَلَيْنَا كِتبًا تَقْرَؤُهُ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولًا - قرآن مجید کھول کر دیکھ لیجئے۔ضرورت کے مطابق آیت کا حصہ نقل ہو سکتا ہے۔(ابو العطاء) سے قرآن مجید کا ہر ہر لفظ جان ہے۔(مؤلف) (395