تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 394 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 394

ہے ظاہر کرتا ہے کہ وہ یہوواہ کے نبی تھے۔پھر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ چار سو نبی جن کا ذکر باب ۲۲ میں ہے وہ اور تھے۔اور جو لعل کے نبی تھے وہ اور تھے ، ان کا ذکر باب ۱۸ میں ہے۔ان کی تعداد چار سو پچاس تھی۔بعل کے نبی اپنی نبوت بعل کے نام پر کرتے تھے۔لیکن اول الذکر نبیوں نے جو نبوت کی اس میں انہوں نے خدا کا نام لیا ہے اور بادشاہ نے بھی ان کی نسبت یہی کہا ہے کہ کیا خداوند کا کوئی اور نبی بھی ہے۔جن نبیوں کو محاورہ تو رات میں کا ذب کہا گیا ہے وہ بھی دراصل کا ذب اور مفتری علی اللہ نہ تھے۔( جلد ۲ صفحہ ۳۲۱) اِس قسم کے تذکرے ڈکشنری آف کرائسٹ اینڈ گاسپل جلد ۲ صفحہ ۴۳۴ نیز انسائیکلو پیڈیا بلی کا جلد ۳، طالمود سنیڈ ریم حصہ ۳۰، جیوش انسائیکلو پیڈیا جلد ۱۰ میں بھی موجود ہیں۔ان بیانات سے ظاہر ہو گیا کہ جن چارسونبیوں پر شیطانی الہام کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے وہ در حقیقت نبی نہ تھے بلکہ زیادہ سے زیادہ محد ثیت کے مقام پر تھے، بائیبل کے عام محاورہ میں ان کو نبی کہا گیا ہے، جو حقیقت پر محمول نہیں اور نہ ہی قرآنی اصطلاح میں وہ نبی کہلانے کے مستحق تھے۔یہ اصلیت ہمارے حضرت کے حوالجات سے بھی ثابت ہے۔تورات کے مفسر بھی اسی پر صاد کرتے ہیں، واقعات بھی اسی کی تائید میں ہیں۔اس صورت حالات میں معترض پٹیالوی کا جھوٹ اور افتراء خود اس کے گلے کا ہار ہو گیا۔وَلِلَّهِ الْحَمْدُ أَوَّلًا وَأَخِراً۔(ب) معترض پٹیالوی نے اپنے اس دسویں نمبر کے حصہ ب میں جو اعتراض کیا ہے وہ اس کے الفاظ میں ہی مختصراً یہ ہے :۔ازالہ اوہام صفحہ ۳۳۸ میں مرزا صاحب نے اس امر پر بحث کی ہے کہ جسم خا کی آسمان پر نہیں جاسکتا۔اس کا ثبوت قرآن شریف کی آیت ذیل سے دیتے ہیں آؤ تَرْقَى فِي السَّمَاءِ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرٍ أَرَّ سُولًا یہ صفحہ کس ایڈیشن کا ہے؟ کیونکہ چھوٹے سائز کا صفحہ ۶۲۷ اور بڑے کا ۲۵۶ ہے۔(ابوالعطاء) (394)