تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 388 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 388

وہ بولا میں نے سارے اسرائیل کو ان بھیڑوں کی مانند جو بے چوپان ہوں پہاڑوں پر بھٹکتے ہوئے دیکھا اور خداوند نے فرمایا کہ ان کا کوئی آقا نہیں۔سو ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے گھر سلامت چلا جائے۔تب شاہ اسرائیل نے یہو سفط سے کہا کیا میں نے تجھ سے نہ کہا تھا کہ یہ میرے حق میں نیکی کی نہیں بلکہ بدی کی پیش خبری کرے گا۔پھر اس نے کہا کہ اسلئے کہ تم خداوند کے سخن کوسنو۔میں نے خداوند کو اس کی کرسی پر بیٹھے دیکھا اور آسمانی سارا لشکر اُس کے آس پاس داہنے ہاتھ اور اس کے بائیں ہاتھ کھڑا تھا۔اور خداوند نے فرمایا کہ اخی اب ( شاہ اسرائیل ) کو کون ترغیب دے گا تا کہ وہ چڑھ جائے اور رامات جلعاد کے سامنے کھیت آئے۔تب ایک اِس طرح سے بولا اور ایک اُس طرح سے۔اس وقت ایک روح نکل کے خداوند کے سامنے آکھڑی ہوئی اور بولی کہ میں اسے ترغیب دوں گی۔پھر خداوند نے فرما یا کس طرح سے؟ وہ بولی میں روانہ ہوں گی اور جھوٹی روح بن کے اس کے سارے نبیوں کے منہ پر پڑوں گی۔اور وہ بولا تو اسے ترغیب دے گی اور غالب بھی ہوگی۔روانہ ہو اور ایسا کر۔سو دیکھ خداوند نے تیرے اُن سب نبیوں کے منہ میں جھوٹی روح ڈالی ہے اور خداوند ہی نے تیری بابت بُری خبر دی ہے۔اللہ (سلاطین کی کتاب ما باب ۲۲) آگے اس باب کے آخری حصہ میں بادشاہ کے مرنے کا تفصیل سے ذکر آتا ہے۔معزز قارئین! آپ اس بات پر ذرا غور فرمائیں گے تو آپ کو اقرار کرنا پڑے گا کہ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے بعینہ اسی طرح بائیبل میں موجود ہے۔شاہ اسرائیل کے چار سونبی شیطانی الہام سے اس کی فتح کی پیشگوئی کرتے ہیں۔ایک پیغمبر میکا یاہ روح القدس کے ذریعہ اس کی ہلاکت کا الہام سناتا ہے۔آخر وہ بادشاہ ذلت سے مارا جاتا ہے اور چارسونبی کی پیشگوئی غلط ہوتی ہے اور ایک پیغمبر کی خبر درست ثابت ہوتی ہے۔گویا حضرت اقدس کے بیان کی حرف بحرف تائید موجود ہے۔(388)