تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 389 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 389

حقیقت اور واقعیت تو یہ ہے لیکن پیٹیالوی اکذب لکھتا ہے :۔”مرزا صاحب کے اس بیان میں صداقت کا ایک ذرہ بھی نہیں۔یہ محض دھوکا ہے۔اور صرف یہ ایک واقعہ ہی مرزا صاحب کے کذب کی صریح دلیل ہے۔“ (عشرہ صفحہ ۸۶) حضرات !خدارا انصاف کریں اور بتائیں کہ کیا پٹیالوی کا یہ بیان درست ہے؟ کیا واقعی حضرت مرزا صاحب کے بیان میں صداقت کا ذرہ نہیں؟ کیا سچ سچ وہ دھوکا ہے؟ کیا حقیقت وہ مرزا صاحب کے کذب کی دلیل ہے؟ میں تو حیران ہوں کہ پٹیالوی ایسے کذاب کے لئے لغت میں کونسا لفظ ہے جو اس قدر کذب بیانی میں بیباک ہے کہ اس کو بع چه دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد کی مثال بھی پورے طور پر ادا نہیں کرتی۔آہ ! ان لوگوں نے دیانت کو چھوڑ کر حق کی مخالفت میں ناخنوں تک زور لگا یا مگر کیا خدا کے کام کو عاجز مخلوق روک سکتی ہے؟ ہر گز نہیں۔غرض رکتے نہیں ہرگز خدا کے کام بندوں سے نہ بھلا خالق کے آگے خلق کی کچھ پیش جاتی ہے امرسوم کا ثبوت معترض پٹیالوی نے آخر الامر بائیبل کے حوالہ سے ایک واقعہ ذکر کر کے بتایا ہے کہ یہ چار سو نبی جن کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ذکر فرمایا ہے۔درحقیقت بعل کے پجاری تھے۔ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ معترض نے اس بیان میں بھی صریح دھوکا دیا ہے۔جن چار سونبیوں کا حضرت اقدس نے ذکر فرمایا ہے وہ اور ہیں۔اور جن بعل کے پجاریوں کا ذکر معترض پیٹیالوی نے کیا ہے وہ اور ہیں۔ہمارے اس دعوی کے ثابت ہو جانے پر معترض پٹیالوی کے مزید کئی جھوٹ ثابت ہو جائیں گے۔ہمارے دعوی کے ثبوت حسب ذیل ہیں۔اول۔جس واقعہ کو معترض پٹیالوی نے ذکر کیا ہے اس کا حوالہ اس نے سلاطین ا باب ۱۶ تا ۲۱ لکھا ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس واقعہ کا ذکر کیا ہے اس کے لئے آپ نے سلاطین ، باب ۲۲ کا حوالہ تحریر فرمایا ہے۔حضرت مسیح موعود کے ذکر فرمودہ حوالہ کی عبارت تو اوپر گذر چکی ہے اب اگر منکر پٹیالوی کا حوالہ ( باب ۱۶ تا ۲۱) (389