تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 383 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 383

” مرزا غلام احمد قادیانی کے کلمات و دعاوی جہاں تک مجھے معلوم ہوئے بے شک موجب فسق ہیں اور وہ قطعا فاسق وضال و فضل اور داخل فر قبائے مبتدعہ واہل اہواء ہے۔اس سے اور اس کے پیروان سے ملنا ہر گز ہرگز جائز نہیں۔اور یہ جو لوگ اس کی تکفیر کرتے ہیں وہ بھی حق پر ہیں فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔بندہ رشید احمد عفی عنہ گنگوہی مہر ] اندریں حالات اگر الخطاب اصلیح کے شبہات کو مولوی گنگوہی کے شبہات قرار دیا گیا یا اس تحریر کو روایات صحیحہ کی بناء پر گنگوہی کی تحریر لکھا گیا تو اس کو جھوٹ قرار دینا یقیناً بڑا ہی مکروہ فعل ہے، حق پر پردہ ڈالنا ہے اور صریح کذب بیانی ہے۔الجواب الثاني - فرض کر لو کہ یہ رسالہ خود تھانوی صاحب نے ہی لکھا۔اس کے لکھنے میں گنگوہی صاحب کا کچھ بھی تعلق نہ ہو پھر بھی حضرت مسیح موعود کے بیان کو سفید جھوٹ“ قرار دینا اپنی گندی فطرت کا اظہار کرنا ہے۔کیونکہ یہ عام قاعدہ ہے بنی الامیر المدينة کہ بادشاہ نے اس شہر کو بنایا۔حالانکہ بنانے والے کارندے ہوتے ہیں۔اسی طرح چونکہ تھانوی صاحب گنگوہی صاحب کے شاگرد اور مرید اور بقول خود اُن سے ہی فیضیافتہ ہیں۔پس قاعدہ عام کے ماتحت اگر ایسا لکھ دیا گیا تو اس میں حرج کو نسا لازم آتا ہے؟ دیکھئے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری لکھتے ہیں :۔ہم اسی رسالہ الہامات مرزا کے اندر اس رسالہ ( آئینہ حق نما مصنفہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی) کے جواب میں کسی ایرے غیرے کو مخاطب نہ کریں گے بلکہ براہِ راست حکیم صاحب (حضرت مولانا نور الدین رضی اللہ عنہ خلیفتہ المسیح الاوّل ) کا نام لیں گے۔کیونکہ عام قانون بنی الامیر المدينة کے علاوہ یہاں خاص وجہ بھی ہے۔“ ( الہامات مرزا صفحہ ۴) اگر اسی لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی تھانوی صاحب کی بجائے گنگوہی صاحب سے اس رسالہ کو منسوب کر دیں تو اس میں کیا حرج ہے؟ پس اس نمبر میں معترض نے جو کذب بیانی کا الزام لگایا ہے یہ سراسر غلط ہے۔وھو المطلوب۔(383