تفہیماتِ ربانیّہ — Page 382
متفق ہیں کہ یہ رو یا مدینہ میں ہوئی اور حدیبیہ کی روانگی سے پہلے ہوئی۔محققین نے حدیبیہ والے قول کی پر زور تردید کی ہے۔پس عقل اور نقل بالاتفاق اسی امر کی تائید کر رہے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا ہے اور جسے معترض پٹیالوی نے اپنی نادانی اور جہالت کے ماتحت جھوٹ شمار کیا تھا۔ہے چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد (۱) رسالا لخطاب السی کی گنگوہی صاحب کی طرف نسبت معترض پیٹیالوی نے لکھا ہے :- مرزا صاحب کا سفید جھوٹ ملاحظہ ہو ضمیمہ بر آمین احمدیہ حصہ پنجم صفہ ۱۹۹ پر لکھتے ہیں " جواب شبہات الخطاب السیح فی تحقیق المہدی واسیح جو مولوی رشید احمد گنگوہی کی خرافات کا مجموعہ ہے۔اس عنوان کے تحت اس رسالہ کو تصنیف حضرت مولانا صاحب گے رحمتہ اللہ علیہ ظاہر کر کے ان کی شان میں بہت کچھ بکواس مارا ہے۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ گنگوہی رسالہ مصنفہ حضرت مولانا مولوی اشرف علی صاحب تھانوی ہے۔“ (عشرہ صفحہ ۸۶) الجواب الاول - حضرت مسیح موعود کے عنوان فوق میں یہ ذکر ہرگز نہیں ہے کہ یہ رسالہ مولوی رشید احمد گنگوہی کی تصنیف ہے اور ان کے نام پر شائع ہوا ہے۔بلکہ یہ بتایا گیا ہے کہ الخطاب اصیح میں مولوی گنگوہی کے شبہات اور خرافات درج ہیں۔ان کا جواب دیا جاتا ہے اور بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی بڑے آدمی کی باتوں کو دوسرے اپنے نام سے بلکہ اس کی تحریر کو بھی اپنے نام سے شائع کر دیتے ہیں۔بعض دفعہ تو ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ خود ایک آدمی مصلیا اپنی تحریر دوسرے کو اشاعت کے لئے دے دے۔بناء بریں الخطاب اصلیح کے شبہات کو مولوی گنگوہی سے منسوب کرنا کیونکر غلط اور جھوٹ ہو گیا ؟ جبکہ اشرف علی صاحب تھانوی نے مولوی گنگوہی کی تحریر کو ہی اپنے نام پر شائع کر دیا ہے۔پٹیالوی صاحب کو معلوم ہونا چاہئے کہ شائع کرنے والا اور راقم مضمون الگ الگ بھی ہو سکتے ہیں۔اسی رسالہ الخطاب اسیح کے آخری صفحہ پر مولوی گنگوہی کے یہ الفاظ مرقوم ہیں :- ا، جھوٹ اور پھر ا قد فتیح اُردو میں؟ ( ابوالعطاء) (382