تفہیماتِ ربانیّہ — Page 351
ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود کی عبارت سے مقصود یہ ہے کہ بتایا جائے کہ اے مسلمانو ! جس مسیح کے تم منتظر ہو وہ نہیں آسکتا۔آنے والا امت محمدیہ کا ہی ایک فرد تھا اور وہ آ گیا۔سعید اور خوش قسمت وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس کو قبول کر لیا۔ہمارے ان بیانات سے ظاہر ہے کہ معترض پٹیالوی اس نمبر میں بھی غلطی خوردہ ہے ورنہ اس نے پبلک کو مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے جو نہایت نا پاک کام ہے۔(۵) معترض پٹیالوی نے حقیقۃ الوحی نیز جنگ مقدس صفحہ ۱۸۸ سے فقرار ذیل نقل کئے ہیں :۔” جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور بچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنارہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لیکر یعنی ۱۵ ماہ تک ہادیہ میں گرایا جاوے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔" اور پھر لکھا ہے :- ان دونوں حوالوں کا مطلب یہ ہے کہ آتھم پندرہ ماہ کے اندر مر جائے گا۔لیکن اس صاف صاف بیان کے برخلاف کشتی نوح کے صفحہ ۶ پر تحریر کرتے ہیں کہ پیشگوئی میں یہ بیان تھا کہ جو شخص اپنے عقیدے کی رو سے جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔اب دیکھ لیجئے کہاں پندرہ ماہ کا تعین اور کہاں جھوٹے کا نیچے سے پہلے مرنا۔یہ پچھلا فقرہ بالکل جھوٹ اس لئے تراشا گیا ہے کہ آتھم میعاد مقررہ میں فوت نہیں ہوا تھا۔( کیونکہ اس نے ”بشر طیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرلے“ کی شرط سے فائدہ اٹھالیا تھا۔ابوالعطاء ) اس سے پیشگوئی کے کذب پر پردہ پڑ جائے گا۔مگر اس ابلہ فریبی کا شکار مرزائی ہی ہو سکتا ہے۔جن کو اللہ تعالیٰ نے نور ایمان بخشا ہے وہ اس قسم کی چالا کی کوفوراً تاڑ لیتے ہیں۔“ (عشرہ صفحہ ۷۹-۸۰) الجواب الاول - معترض نے جھوٹے کے پہلے مرنے کی پیشگوئی کو بالکل جھوٹ“ (351