تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 352 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 352

قرار دیا ہے اور کشتی نوح صفحہ ۶ پر اس کے ذکر کو چالا کی گردانا ہے اسلئے ہم اس جگہ کشی توح کی ساری عبارت درج کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- پیشگوئی نے صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ اگر وہ حق کی طرف رجوع کرے گا تو پندرہ مہینہ میں نہیں مرے گا۔سو اس نے عین جلسہ مباحثہ پر ستر معزز آدمیوں کے روبرو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کہنے سے رجوع کیا۔اور نہ صرف یہی بلکہ اس نے پندرہ مہینہ تک اپنی خاموشی اور خوف سے اپنا رجوع ثابت کر دیا۔اور پیشگوئی کی بناء یہی تھی کہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کہا تھا۔لہذا اس نے رجوع سے صرف اِس قدر فائدہ اٹھایا کہ پندرہ مہینے کے بعد مر ا مگر مر گیا۔یہ اسلئے ہوا کہ پیشگوئی میں یہ بیان تھا کہ فریقین میں سے جو شخص اپنے عقیدہ کے رُو سے جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔سو وہ مجھ سے پہلے مر گیا۔“ ناظرین کرام ! آپ نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود نے اس عبارت میں بھی پندرہ مہینہ کا ذکر کیا ہے اسلئے یہ کہنا کہ جھوٹے کے پہلے مرنے کا ذکر محض چالاکی سے کر دیا غلط ہے۔ہاں چونکہ اس پیشگوئی کا مفاد اور ماحصل بہر صورت یہ تھا کہ جھوٹا شخص پہلے مرے گا اور اس کے رجوع الی الحق نہ کرنے کی صورت میں تو پندرہ مہینہ کی قید اور حد لگا دی گئی تھی لیکن مطلق طور پر جھوٹے کا پہلے مرنا بھی بین السطور مذکور تھا اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مطلق حصہ کو بھی ذکر فرمایا ہے۔پندرہ مہینہ کا تعین عدم رجوع الی الحق کی صورت میں تھا۔اس نے رجوع کیا۔( جیسا کہ مفصل فصل دہم میں مذکور ہوگا۔انشاء اللہ تعالیٰ ) اور اس شرطی حصہ سے فائدہ اٹھایا لیکن وہ مطلق موت کا ذب کی ضمنی صورت سے بچ نہ سکا اور مرگیا۔پس اس اعتراض کا پہلا جواب تو یہی ہے کہ اگر چہ جنگ مقدس کے الفاظ میں عدم رجوع کی صورت میں پندرہ ماہ معین تھے لیکن جب رجوع ہوا اور عیسائی گروہ اس کا انکار کرتا رہا۔تو ان کو سیخت ذلت پہنچانے کی خاطر آتھم کا پہلے مرنا ہی پیشگوئی کا منشاء تھا۔اس کھلی حقیقت کا انکار کرنا حکم ہے اور اس بیان کو جھوٹ قرار دینا تو صاف بے ایمانی ہے۔دوسرا جواب یہ ہے کہ آتھم کی موت سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے (352)