تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 350 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 350

کرے گا۔بے شک حدیثوں میں مسیح موعود کے ساتھ نبی کا نام موجود ہے مگر ساتھ اس کے امتی کا نام بھی تو موجود ہے اور اگر موجود بھی نہ ہوتا تو مفاسد مذکورہ بالا پر نظر کر کے ماننا پڑتا کہ ہرگز ایسا ہو نہیں سکتا کہ کوئی مستقل نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آوے کیونکہ ایسے شخص کا آنا صریح طور پر ختم نبوت کے منافی ہے۔اور یہ تاویل کہ پھر اس کو امتی بنایا جائے گا (جیسا کہ معترض پٹیالوی نے بزعم خویش تیرہ سو برس کا مذہب بتایا ہے۔ابوالعطاء ) اور وہی نو مسلم نبی مسیح موعود کہلائے گا۔یہ طریق عزت اسلام سے بہت بعید ہے۔جس حالت میں حدیثوں سے ثابت ہے کہ اسی اُمت میں سے یہود پیدا ہوں گے تو افسوس کی بات ہے کہ یہود تو پیدا ہوں اس اُمت میں سے اور مسیح باہر سے آوے۔کیا ایک خدا ترس کے لئے یہ ایک مشکل بات ہے کہ جیسا کہ اس کی عقل اس بات پر تسلی پکڑتی ہے کہ اس اُمت میں بعض لوگ ایسے پیدا ہوں گے جن کا نام یہو درکھا جائے گا ، ایسا ہی اس اُمت میں سے ایک شخص پیدا ہوگا جس کا نام عیسے اور مسیح موعود رکھا جائے گا۔کیا ضرورت ہے کہ حضرت عیسی کو آسمان سے اُتارا جائے اور اُس کی مستقل نبوت کا جامہ اُتار کر امتی بنایا جائے؟ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۹-۳۰) اس اقتباس سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا منشاء معترض پٹیالوی کی نقل کردہ عبارت سے کیا ہے؟ فَمَاذَا بَعُدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالَ۔(ذ) متذکرہ صدر امور کا تعلق زیادہ تر عیسائی عقائد سے ہے اور حضرت اقدس کی اس عبارت کی زد براہ راست اگر چہ کہلانے والے مسلمانوں کے خیالات پر پڑتی ہے مگر بالواسطہ عیسائی بھی مخاطب ہیں۔چنانچہ اسی جگہ حقیقت الوحی صفحہ ۲۹ کے حاشیہ پر حضرت نے تحریر فرمایا ہے :- حضرت عیسی کے دوبارہ آنے کا مسئلہ عیسائیوں نے محض اپنے فائدہ کے لئے گھڑا تھا۔کیونکہ ان کی پہلی آمد میں ان کی خدائی کا کوئی نشان ظاہر نہ ہوا۔ہر دفعہ مار کھاتے رہے ، کمزوری دکھلاتے رہے۔پس یہ عقیدہ پیش کیا گیا کہ آمد ثانی میں وہ خدائی کا جلوہ دکھا ئیں گے اور پہلی کسریں نکالیں گے۔“ دو (350)