تفہیماتِ ربانیّہ — Page 349
کسی حدیث صحیح سے اس بات کا پتہ نہیں ملے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے جو امتی نہیں۔یعنی آپ کی پیروی سے فیضیاب نہیں۔اور اسی جگہ سے ان لوگوں کی غلطی ثابت ہوتی ہے جو خواہ نخواہ حضرت عیسی کو دوبارہ دنیا میں لاتے ہیں اور وہ حقیقت جو الیاس نبی کے دوبارہ آنے کی تھی جو خود حضرت عیسے کے بیان سے گھل گئی اس سے کچھ عبرت نہیں پکڑتے۔بلکہ جس آنیوالے مسیح موعود کا حدیثوں سے پتہ لگتا ہے اس کا انہیں حدیثوں میں یہ نشان دیا گیا ہے کہ وہ نبی بھی ہوگا اور اتنی بھی، مگر کیا مریم کا بیٹا امتی ہو سکتا ہے؟ کون ثابت کرے گا کہ اُس نے براہ راست نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے درجہ نبوت پایا تھا۔هُذَا هُوَ الْحَقُّ وَإِنْ تَوَلَّوا فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَةَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ۔اور ہزار کوشش کی جائے اور تاویل کی جائے یہ بات بالکل غیر معقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے کہ جب لوگ نماز کے لئے مساجد کی طرف دوڑیں گے تو وہ کلیسا کی طرف بھاگے گا ، اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول بیٹھے گا ، اور جب لوگ عبادت کے وقت بیت اللہ کی طرف منہ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہو گا۔اور شراب پئے گا اور سور کا گوشت کھائے گا اور اسلام کے حلال و حرام کی کچھ پرواہ نہیں رکھے گا۔کیا کوئی عقل تجویز کر سکتی ہے کہ اسلام کے لئے یہ مصیبت کا دن بھی باقی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی بھی آئے گا کہ جو مستقل نبوت کی وجہ سے آپ کی ختم نبوت کی مہر کو توڑ دے گا اور آپ کی فضیلت خاتم الانبیاء ہونے کی چھین لے گا۔اور آپ کی پیروی سے نہیں بلکہ براہِ راست مقام نبوت حاصل رکھتا ہوگا اور اس کی عملی حالتیں شریعتِ محمدیہ کے مخالف ہوں گی۔اور قرآن شریف کی صریح مخالفت کر کے لوگوں کو فتنہ میں ڈالے گا اور اسلام کی ہتک عزت کا موجب ہوگا۔یقینا سمجھو کہ خدا ہر گز ایسا نہیں (349)