تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 348 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 348

سے تعبیر کر سکتے ہیں۔اس سے اور کچھ نہیں تو نزول کے معنے گھل جاتے ہیں۔یعنے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ایک شخص اس دنیا میں عورت کے پیٹ سے پیدا ہو تب بھی اس کی بعثت کو نزول سے تعبیر کر سکتے ہیں۔اس میں اُن لوگوں کا جواب ہے جو لفظ نزول کی وجہ سے ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کے لئے آسمان پر نگاہ لگائے بیٹھے ہیں۔( ج ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آپ کو مثیل مسیح قرار دیا ہے اسلئے یہ بات تو عقلاً بھی محال ہے کہ آپ مسیح علیہ السلام کی مذمت کریں۔چنانچہ یہ بات ان حوالجات سے بھی ثابت ہے جو کسی دوسری جگہ مذکور ہیں کہ حضور حضرت مسیح علیہ السلام کو نہایت پاک منتقی ، پارسا اور برگزیدہ رسول یقین کرتے ہیں۔اسلئے حقیقۃ الوحی کی عبارت سے یہ استدلال بالبداہت باطل ہے اور خلاف منشاء متکلم ہے۔(د) ہم بھی مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کے قائل ہیں اور دوسرے فرقے بھی۔ہمارے نزدیک وہ موعود امت محمدیہ کا ہی ایک فرد تھا جو آپکا۔لیکن دوسرے لوگ ہنوز اس کے انتظار میں ہیں۔وہ اسرائیلی مسیح کے منتظر ہیں۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس عبارت میں اس عقیدہ کی تردید فرمائی ہے کہ وہی اسرائیلی مسیح دوبارہ اُمت محمدیہ میں آجائے گا کیونکہ وہ ایک مستقل نبی تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی اتباع کا اس کی نبوت میں کوئی دخل نہ تھا اور نہ ہو گا۔وہ دنیا میں جس مذہب کو لے کر آیا وہ بعض امور میں بقول نصاری اسلام کے مخالف ہے۔قرآن و انجیل ، مسجد اور کلیسا کا اختلاف بالکل نمایاں ہے۔اب سوال یہ ہے کہ نصاریٰ کہتے ہیں کہ جب مسیح آئے گا تو وہ انجیل کے مذہب کو رواج دے گا اور اس کی شریعت یا احکام پر دنیا کو کار بند کرے گا۔لیکن ایسا ہونا نصوص قرآنیہ کے خلاف ہے۔اس لئے جس طرح آیات قرآنی وفات مسیح پر دلالت کر رہی ہیں ویسا ہی شریعت اسلامیہ کا عالمگیر، دائمی ہونا بھی پہلے مسیح کی جسمانی آمد ثانی کے خلاف ہے لہذا باطل ہے۔اس تشریح کو سامنے رکھئے اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارت کو پڑھئے اور غور فرمائیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیا بیان کرنا چاہتے ہیں اور معترض پٹیالوی کیا نتیجہ نکالتا ہے۔عبارت یہ ہے :- (348)