تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 347 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 347

اس کے لئے کونسی ضرورت مجبور کر رہی تھی۔کیا حضرت اقدس علیہ السلام کی صداقت صرف اسمعیل علی گڑھی کی موت کے ذکر سے ہی وابستہ تھی؟ ہر گز نہیں۔پس سچ یہی ہے کہ مولوی اسمعیل نے اپنے رسالہ میں بددعا کی لیکن وہ جلد مرگیا۔اسلئے اس کو حاشیہ پر سے اُڑادیا گیا اور یہی وجہ تھی کہ مخالفین نے حضرت کے بار بار تحریر فرمانے پر بھی اس کا انکار نہیں کیا۔(۴) اس نمبر میں معترض پٹیالوی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۹ سے ایک عبارت نقل کی ہے اور پھر لکھا ہے :۔اس عبارت میں چھ ۶ فقرے ہیں جو سب کے سب جھوٹے ہیں۔مسلمانوں کا عقیدہ۱۳۰۰ برس سے یہ چلا آتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مکرر نزول کے بعد شریعت محمد سی پر عمل کریں گے پھر معلوم نہیں کہ اس کے خلاف مرزا صاحب نے کس کتاب سے یہ فقرے نقل کر دیئے کہ حضرت عیسی علیہ السلام سؤر کھا ئیں گے اور شراب پئیں گے۔کیا کوئی مرزائی بتا سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔یہ سب جھوٹ باتوں کا مجموعہ اور محض ہرزہ سرائی ہے۔“ (عشرہ صفحہ ۷۹) الجواب - (الف) یہ بات ایک غلط بیانی ہے کہ تیرہ تو برس سے مسلمان حضرت عیسے علیہ السلام کے منتظر رہے ہیں۔جن کی وفات کو قرآن مجید نے مفصلاً ذکر کر دیا ہے اور جن کا دائرہ تبلیغ صرف اسرائیل کا گھرانہ قرار دیا ہے۔جیسا کہ فرما یا ؤ رَسُولاً إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ - بھلا کون عقلمند مسلمان اس کا انتظار کر سکتا ہے۔مسلمانوں کو مسیح موعود کی انتظار تھی لیکن نہ اسرائیلی مسیح کی بلکہ محمدی مسیح کی۔جس کی شان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وَ اِمَامُكُمْ مِنكُمْ ( صحیح بخاری ) وہ تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔مسیح کی جسمانی زندگی اور جسمانی نزول کا خیال تو نصاری کا اعتقاد ہے۔جس کو شیح اعوج کے مسلمان کہلانے والوں نے اختیار کر لیا ہے۔اور اسی بڑی غلطی کو دور کرنا مسیح موعود کے فرائض میں سے تھا اور اس کی تشریح میں حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۹ کی متذکرہ عبارت ہے۔(ب) معترض کی عبارت میں لفظ ” مکر رنزول قابل غور ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ پہلی مرتبہ جب حضرت عیسی علیہ السلام آئے تھے تو ان کا نزول ہو ا تھا تب ہی تو دوسری آمد کو مکر رنزول (347)