تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 346 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 346

مولوی اسمعیل علی گڑھی مولوی اسمعیل صاحب علی گڑھی نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف بددعا کی اور ایک رسالہ میں اس کو درج کیا۔لیکن وہ رسالہ ابھی طبع ہی ہو رہا تھا کہ ملک الموت نے اسمعیل کو قبضہ میں کر لیا اور وہ اس لعنت کا شکار ہو گیا جو اس نے خدا کے فرستادہ پر کی تھی۔اس کے مرنے نے اس کے تمام حامیوں پر موت وارد کر دی۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے طباعت رسالہ کے دوران میں ہی اس بددعا کو اُڑا دیا۔بعض کے حاشیہ پر وہ طبع ہوگئی اور باقی سے مٹادی گئی۔اس نا گہانی موت کے بعد اُن کا غذات کو تلف کر دیا گیا جن پر وہ طبع ہوئی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک مخلص نے اس رسالہ کے بعض کا غذ اسی اثناء میں حضور کے پاس بھیج دیئے۔جس کی بناء پر حضور نے مختلف کتب میں یہ تحریر فرمایا ہے کہ مولوی اسمعیل علی گڑھ والے نے میرے خلاف بددعا کی تھی۔چنانچہ حقیقۃ الوحی میں حضور علی تحریر فرماتے ہیں :- مولوی اسمعیل نے اپنے ایک رسالہ میں میری موت کے لئے بددعا کی تھی۔پھر بعد اس بد دعا کے جلد مر گیا اور اس کی بد دعا اُسی پر پڑ گئی۔“ (حاشیہ صفحہ ۳۳۰) اس حقیقت کو چھپانے کے لئے معترض نے اس کو سفید جھوٹ“ قرار دیا ہے۔میں کہتا ہوں کہ کیا وجہ ہے کہ مخالفین نے حضرت اقدس علیہ السلام کی حیات میں یہ سوال حضور علیہ السلام کے سامنے پیش نہیں کیا؟ صرف یہی وجہ تھی کہ ان کو حقیقت معلوم تھی۔حضرت مولوی عبد اللہ صاحب سنورٹی نے میرے سامنے مسجد مبارک قادیان میں شہادت دی تھی کہ میں نے وہ مطبوعہ کا غذات دیکھے تھے۔ان کا سائز رسالہ منتح اسلام کے سائز کے برابر تھا۔اس میں اسمعیل علی گڑھی کی بددعا درج تھی جس کے بعد جلد ہی وہ مرگیا۔یوں بھی منصف مزاج ناظرین خیال کر سکتے ہیں کہ اگر یہ جھوٹ تھا،خلاف واقعہ تھا تو (346)