تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 345 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 345

اس دعوت کے بعد ایک کتاب لکھی جس کا نام فتح رحمانی ہے اس کے صفحہ ۲۶ و ۲۷ پر گزشتہ زمانے کے ایک مہدی کاذب کی ہلاکت کا ذکر کرنے کے بعد مولوی غلام دستگیر نے لکھا ہے کہ :۔" اللَّهُمَّ يَا ذَالْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا مَالِكَ الْمُلْكِ جیسا کہ تو نے ایک عالم ربانی حضرت محمد طاہر مؤلف مجمع بحارالانوار کی دعا اور سعی سے اس مہدی کا ذب اور جعلی مسیح کا بیڑا غارت کیا (جو اُن کے زمانہ میں پیدا ہو اتھا ) ویسا ہی دعا اور التجاء اس فقیر قصوری کان اللہ لہ کی ہے۔جو بچے دل سے تیرے دین متین کی تائید میں حتی الوسع ساعی ہے کہ تو مرزا قادیانی اور اس کے حواریوں کو تو بہ نصوح کی توفیق رفیق فرما۔اور اگر یہ مقدر نہیں تو ان کو مورد اس آیت فرقانی کا بنافَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَبِالْإِجَابَةِ جَدِيرٌ - آمين پھر صفحہ ۲۶ کے حاشیہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضور کے اتباع کے متعلق لکھتا ہے :- تباله ولا تباعہ یعنے اس کے لئے اور اس کے پیروؤں کے لئے ہلاکت ہو۔“ ناظرین کرام ! غور فرما دیں کہ کس قدر دیدہ دلیری ہے۔قصوری کی کتاب موجود ہے (اگر چه نایاب ہے۔میں نے خود یہ چھوٹی سی کتاب اڑھائی روپے میں خریدی ہے ) اس کی بددعا موجود ہے۔اور پھر اس نے اس دعا کے فیصلہ کے لئے ایک نظیر زمانہ سابق کی بھی پیش کر کے لکھ دیا ہے کہ (نعوذ باللہ ) حضرت مرزا صاحب کی ہلاکت قطعی ہے لیکن پھر بھی معترض پٹیالوی حضرت اقدس کے بیان کو سفید جھوٹ کہ رہا ہے ع تفو بر تو اے چرخ گردوں تفو۔پھر طرفہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود غلام دستگیر قصوری کی کتاب کا حوالہ مع عبارت تحریر فرما دیا ہے۔چنانچہ حضور نے اس کے لئے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۳۰ پر فتح رحمانی مطبوعہ مطبع احمدی لدھیانہ ۱۳۱۵ ہجری کے صفحہ ۲۶ صفحہ ۲۷ کی عبارت بھی نقل فرمائی ہے جو ہم او پر درج کر چکے ہیں۔کیا انصاف اور دیانت داری کا تقاضا نہ تھا کہ منکر پٹیالوی اگر خدا سے نہیں تو دنیا سے ہی شرم کرتا اور اس قدر صریح مغالطہ دہی سے کام نہ لیتا۔ویلٌ لَهُمْ وَلِمَا يَكْتُبُونَ۔لے اس گردوں سے مراد مکذبین کا تار عنکبوت سے بھی کمزور خود ساختہ گردوں ہوتا ہے۔(مؤلف) (345)