تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 294 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 294

کے لئے بطور پیشگوئی فرمایا :- دیکھو میں آسمان اور زمین کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ آج کی تاریخ سے اس نشان پر حصر رکھتا ہوں۔اگر میں صادق ہوں اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں صادق ہوں تو کبھی ممکن نہیں ہو گا کہ مولوی ثناء اللہ اور ان کے تمام مولوی پانچ دن میں ایسا قصیدہ بناسکیں اور اُردو مضمون کا رد لکھ سکیں کیونکہ خدا تعالیٰ ان کی قلموں کو توڑ دے گا اور ان کے دلوں کو غیبی کر دے گا۔“ (اعجاز احمدی صفحہ ۳۷) واقعات نے بتا دیا کہ نہ مولوی ثناء اللہ امرتسری اس کی مثل لا سکے۔اور نہ ہی مولوی اصغر علی صاحب، نہ پیر مہر علی شاہ صاحب، اور نہ مولوی علی حائری صاحب شیعہ وغیرہ اسکی نظیر پر قادر ہو سکے۔ناظرین کرام ! کیا یہ خدا تعالیٰ کا ایک زبر دست نشان نہیں کہ ایک گاؤں کا رہنے والا جسے اس کے مخالف عربی زبان سے بالکل نابلد قرار دیتے تھے پانچ دن کے اندر ایک تصنیف کرتا ہے اور گل پندرہ دن کے اندر اندر لکھ کر اور شائع کر کے مخالفین کے گھروں پر پہنچا دیتا ہے۔اور سب کو اس کی مثل کے لئے للکارتا ہے اور اپنی کتاب کی اعجازی طاقت پر شاندار الفاظ میں دعویٰ کرتا ہے بلکہ مثل لانے والوں کو بین اور پچھیں دن کی مہلت دیکر دس ہزار روپیہ انعام بھی مقرر کرتا ہے مگر وہ سب کے سب گنگ ہو جاتے ہیں، ان کی قلمیں جواب دے دیتی ہیں اور دل نجی ہو جاتے ہیں۔کیا یہ خدا کی قدرت کا چمکتا ہوا نشان نہیں؟ یقینا ہے !مگر رکن کے لئے ؟ صرف ان کے لئے جن کے دلوں میں خشیت الہی اور خوف خدا ہو۔ورنہ منکرین کا تو یہ حال ہے کہ صدہا نشان دیکھ کر بھی اعراض ہی کرتے ہیں۔فرمایا وَكَأَيِّنْ مِنْ آيَةٍ فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ لے جیسا کہ او پر مذکور ہے اس کی مثل لانے کے لئے عام مولویوں کو بیس دن اور مولوی ثناء اللہ صاحب کو پچیس دن کی میعاد دی گئی تھی۔یہ پانچ دن کا ذکر محض تقابل کے لئے بغرض تصنیف مذکور ہے ویس۔(مؤلف) کے بہت سے نشانات آسمانوں اور زمین میں ظاہر ہوتے ہیں کہ یہ لوگ ان پر سے گزرتے ہیں یعنی ان کو دیکھتے ہیں اور اعراض کرتے ہیں۔۱۲ (294)