تفہیماتِ ربانیّہ — Page 293
کے پاس بھیج دوں گا جو مولوی سید محمد سرور صاحب لے کر جائیں گے۔اور اسی تاریخ یہ رسالہ ان تمام صاحبوں کی خدمت میں جو اس قصیدہ میں مخاطب ہیں بذریعہ رجسٹری روانہ کر دوں گا۔بالآخر میں اس بات پر بھی راضی ہو گیا ہوں کہ ان تمام مخالفوں کو جواب مذکورہ بالا کے لکھنے اور شائع کرنے کے لئے پندرہ روز کی مہلت دوں۔کیونکہ اگر وہ زیادہ سے زیادہ بحث کریں تو انہیں اس صورت میں کہ ۱۸ ریا ۱۹ نومبر ۰ تک میرا قصیدہ اُن کے پاس پہنچ جائے گا۔بہر حال ماننا پڑے گا کہ یکم نومبر ٤٠٢ سے نصف نومبر تک پندرہ دن ہوئے مگر تاہم میں نے ان کی حالت پر رحم کر کے اتمام حجت کے طور پر پانچ دن ان کے لئے اور زیادہ کر دیئے ہیں اور ڈاک کے دن ان دنوں سے باہر ہیں۔پس ہم جھگڑے سے کنارہ کرنے کے لئے تین دن ڈاک کے فرض کر لیتے ہیں یعنی ۱۷/ ۱۹/۱۸ / نومبر ۰۲، ان دنوں تک بہر حال ان کے پاس جا بجا یہ قصیدہ پہنچ جائے گا۔اب ان کی اصل میعاد ۲۰ نومبر سے شروع ہوگی۔پس اس طرح پر ۱۰ دسمبر ٤۰۲ تک اس میعاد کا خاتمہ ہو جائے گا۔پھر اگر ۲۰ دن میں (مولوی ثناء اللہ ۲۵ دن میں کیونکہ اسے ۱۶ نومبر ۰۳ کو رسالہ پہنچادیا گیا تھا۔ابوالعطاء ) جو دسمبر ۰۲ ء کی دسویں کے دن کی شام تک ختم ہو جائے گی انہوں نے اس قصیدہ اور اُردو مضمون کا جواب چھاپ کر شائع کر دیا تو یوں سمجھو کہ میں نیست و نابود ہو گیا اور میرا سلسلہ باطل ہو گیا۔اِس صورت میں میری جماعت کو چاہئے کہ مجھے چھوڑ دیں ور قطع تعلق کریں۔لیکن اگر اب بھی مخالفوں نے عمداً کنارہ کشی کی تو نہ صرف دسہزار روپے انعام سے محروم رہیں گے بلکہ دس لعنتیں ان کا از لی حصہ ہوگا۔“ (اعجاز احمدی صفحہ ۹۰)۔۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اعجاز احمدی کی مثل لانے پر دس ہزار روپیہ مقرر کرنا ہی حضور کے یقین تام پر زبردست دلیل ہے۔لیکن اس سے بڑھ کر حضور نے مخالفین کو اُکسانے (293)