تفہیماتِ ربانیّہ — Page 295
بے مثل کلام لا نا یقیناً یقین منجانب اللہ ہونے کی بین دلیل ہے۔سکنے مولوی شبیر احمد صاحب مدرس دار العلوم دیوبند ( جنہیں آخر پاکستان میں شیخ الاسلام قرار دیا گیا تھا۔ابوالعطاء) لکھتے ہیں :- ”ٹھیک اسی طرح خدائی کلام وہ ہے کہ ساری دنیا اس جیسا کلام بنانے سے عاجز اور درماندہ ہو۔ساری دنیا کو للکارا جائے ، غیر تیں دلائی جائیں، مقابلہ کے لئے کھڑا کیا جائے ، اور لوگ چاہیں کہ کسی طرح یہ روشنی بجھ جائے مگر پھر بھی ویسا کلام بنا کر نہ لاسکیں تو ہم سمجھیں گے کہ یہ خدا کا کلام ہے۔۔۔جو نبی دعوی کرتا ہے کہ میں نبی ہوں اور اس کی یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ اللہ جل شانہ میرے ہاتھوں او زبان سے وہ چیزیں ظاہر کرے گا جو اس کی عام عادت کے خلاف ہوں گی اور دنیا ان کی مثال لانے سے عاجز ہوگی پھر اس کے موافق مشاہدہ بھی کیا جا رہا ہو تو یہ خدا کی جانب سے عملاً اس کے دعویٰ کی تصدیق ہے۔ہم بلا خوف تردید یہ یقین رکھتے ہیں کہ خداوند قدوس جو کہ تمام سچائیوں کا سر چشمہ ہے کسی انسان کو یہ دسترس نہ دے گا کہ وہ نبوت کا جھوٹا دعوی کر کے ایسے خوارق عادات دکھلائے کہ دنیا اس کے مقابلہ سے عاجز ٹھہرے۔جس کا جی چاہے اب بھی اس ضابطہ کا امتحان کر دیکھے۔“ ( رسالہ اعجاز القرآن صفحہ ۱۴ و ۲۰) پس اے بھائیو! اگر تم ہماری باتوں کو تسلیم نہیں کرتے تو مولوی شبیر احمد صاحب دیوبندی کی آواز پر ہی کان رکھو ھے ز سعدی شنو گر زمن نشنوی اعجاز احمدی اور معترض پٹیالوی منشی محمد یعقوب لکھتے ہیں :۔ایک قصیدہ اعجاز یہ مرزا صاحب نے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے مقابلہ میں لکھ کر ناون لو لے اگر چہ ساری بحث میں معترض پٹیالوی نے امرتسری مکر کا پس خوردہ ہی کھایا ہے لیکن میعاد میں اس سے اختلاف کیا ہے۔مولوی ثناء اللہ تو صرف پانچ دن مہلت بتا کر دھوکا دیتا ہے (دیکھو الہامات مرز اصفحہ ۹۷) مگر پٹیالوی صاحب کو تسلیم کرنا پڑا کہ بین اون مہلت تھی اور پھر وہ بھی ۱۶ نومبر سے ۱۰ار دسمبر تک عمل ۲۵ دن ہوگئی تھی۔( ابوالعطاء) (295)