تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 275 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 275

مقابلہ تحریری کی دی جائے گی اگر یہی طریق گفتگو تھا تو بٹالوی اور سینکڑوں مولوی تو حضرت اقدس پر فتوی کفر پہلے ہی لگا چکے تھے۔نیز بیعت کے بعد مقابلہ تحریری کی اجازت کس قدر مضحکہ خیز اور راقم اشتہار کی صریح مغالطہ رہی ہے۔بھلا مُرید اور پھر اپنے پیر سے تفسیر نویسی میں مقابلہ ؟ پیر صاحب اور ان کے ساتھیوں نے یہ چالیں محض پردہ داری کے لئے کیں مگر عریانی ان سے اور بھی نمایاں ہوگئی۔مذہب کا دعوئی اور یہ طریق عمل ؟ بع تفو بر تو اے چرخ گردوں تفو ان حالات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ان کا مناظرہ متعذر نظر آرہا تھا۔ان لوگوں کو اگر حق طلبی مطلوب ہوتی تو اس قسم کی ڈور از کار گفتگو شروع نہ کرتے۔لیکن پھر بھی گولڑوی صاحب کے شیشہ غرور کو چکنا چور کرنے کے لئے دو سامان پیدا ہو گئے۔اوّل جناب مولوی محمد احسن صاحب فاضل امروہی نے ۱۴ اگست ۱۹۰۰ بر کو ایک اشتہار شائع کیا جس میں علاوہ ان باتوں کے ابطال کے جو گولڑوی صاحب کے حمائتیوں کی طرف سے پیش کی گئی تھیں مباحثہ کے لئے بھی منظوری کا اعلان کیا گیا۔اس پر جناب گولڑ وی ایسے خاموش ہو گئے ع گوئی کہ مُردنده اند دوم - سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بطور اتمام حجت ایک اشتہار مؤرخہ ۱۵ / دسمبر ۱۹۰۰ ء شائع فرمایا جس میں مرقوم تھا :- ' چونکہ مجھے خدا تعالیٰ نے اس الہام سے مشرف فرمایا ہے الرحمن عَلَّمَ الْقُرْآن کہ خدا نے تجھے قرآن سکھلایا اسلئے میرے صدق یا کذب کے پر کھنے کے لئے یہ نشان کافی ہوگا کہ پیر مہر علی شاہ صاحب میرے مقابل پر کسی سورۃ قرآن شریف کی عربی فصیح بلیغ میں تفسیر لکھیں۔اگر وہ فائق اور غالب رہے تو پھر ان کی بزرگی ماننے میں مجھ کو کچھ کلام نہیں ہوگا۔پس میں نے اس امر کو قرار دے کر ان کی دعوت میں اشتہار شائع کیا جس میں سراسر نیک نیتی سے کام لیا گیا تھا۔لیکن اس کے جواب میں جس چال کو انہوں نے اختیار کیا ہے اس سے صاف ثابت ہو گیا کہ ان کو قرآن شریف سے کچھ بھی مناسبت نہیں اور نہ علم (275)