تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 274 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 274

قریب ہیں۔اور ان کے الہامی کتب میں درج ہیں بپا بندی امور ذیل ہو جائے۔اللہ (اشتہار ۲۵ جولائی ۱۹۰۰ ء ) سچ ہے 8 پیراں نے پرانند و مریداں سے پرانند۔ہم تو پیر صاحب کی حیلہ جوئی پر ہی انگشت بدنداں تھے کہ آپ نے ۱۳۶ مسائل پر تقریری مباحثه قبل مقابلہ تفسیر نویسی ضروری قرار دیا۔تا کسی طرح پیر صاحب کی پردہ دری نہ ہو۔خوب ! ” بڑے میاں سو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان الله ناظرین کرام! پیر صاحب کی مندرجہ بالا شرط کس راز پر مشتمل ہے؟ سن لیجئے۔اول تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس سے چار سال قبل اپنی مشہور کتاب انجام آتھم میں تحریر فرما چکے ہیں :- از مَعْنَا أَنْ لَا نُخَاطِبَ الْعُلَمَاءَ بَعْدَ هَذِهِ التَّوْضِيْحَاتِ وَلَوْ سَبُّوْنَا كَمَا اَرَوُا مِنْ قَبْلُ مِنَ الْعَادَاتِ وَمَا غَلَظْنَا عَلَيْهِمْ إِلَّا لِتَنْبِيهَاتٍ وَإِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالتِيَاتِ فَالْانَ نُوَدِّعُهُمْ بِدُمُوعِ جَارِيَةٍ مِنَ الْحَسَرَاتِ وَعُيُونٍ غَرِيْقَةٍ فِي سَيْلِ الْعَبَرَاتِ وَهَذِهِ مِنَا خَاتِمَةُ الْمُخَاطَبَاتِ۔“ (صفحہ ۲۸۲) یعنی میں اب علماء سے اپنی صداقت اور اختلافی مسائل پر تقریری مباحثات نہیں کروں گا میں ان پر حجت تمام کر چکا ہوں۔“ مولوی گولڑوی صاحب کو یہ کتاب ( انجام آتھم ) بذریعہ رجسٹری بھیجی جا چکی تھی۔اسلئے انہوں نے مقابلہ تفسیر نویسی سے اس طریق پر گریز کیا۔کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ حضرت اقدس اپنے اس واضح اقرار کے بعد ان سے اختلافی مسائل پر تقریری بحث نہ کریں گے اور پیر صاحب اپنے مریدوں میں فتح کے شادیانے بجا ئیں گے۔اف اکس طرح سے مذہب کے نام پر دیانتداری کا خون کیا گیا ؟ دوم - پیر صاحب نے وفات مسیح ، صداقت مسیح موعود علیہ السلام وغیرہ کے لئے بٹالوی اور اس کے مکتب رفقاء کو ثالث قرار دیا۔گویا ان کے فیصلہ پر ہی حضرت مسیح موعود کے لئے ضروری ہوگا کہ پیر صاحب کے ہاتھ پر بیعت تو بہ کر کے مرید بن جائیں اور پھر اجازت (274)