تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 276 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 276

میں کچھ دخل ہے۔یعنی انہوں نے صاف گریز کی راہ اختیار کی اور جیسا کہ عام چالبازوں کا دستور ہوتا ہے یہ اشتہار شائع کیا کہ اول مجھ سے حدیث اور قرآن سے اپنے عقائد میں فیصلہ کر لیں۔پھر اگر مولوی محمد حسین اور ان کے دوسرے دو رفیق کہہ دیں کہ مہر علی شاہ صاحب کے عقاید صحیح ہیں، تو بلا توقف اسی وقت میری بیعت کر لیں۔پھر بیعت کے بعد عربی تفسیر لکھنے کی بھی اجازت دی جائے گی۔مجھے اس جواب کو پڑھ کر بلا اختیار ان کی حالت پر رونا آیا اور ان کی حق طلبی کی نسبت جو امیدیں تھیں سب خاک میں مل گئیں الغر - پیر صاحب کی اِس بہانہ سازی پر اور ان کے مریدوں کی روز مرہ کی گالیوں کے تذکرہ کے بعد حضرت اقدس علیہ السلام نے ایک نئی تجویز بغرض فیصلہ بایں الفاظ پیش فرمائی ہے :- میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ میں اسی جگہ بجائے خود سورہ فاتحہ کی عربی فصیح تفسیر لیکھ کر اس سے اپنے دعوی کو ثابت کروں اور اس کے متعلق معارف اور حقائق سورۃ ممدوحہ کے بھی بیان کروں اور حضرت پیر صاحب میرے مخالف آسمان سے آنے والے مسیح اور خونی مہدی کا ثبوت اس سے ثابت کریں اور جس طرح چاہیں سورہ فاتحہ سے استنباط کر کے میرے مخالف عربی فصیح بلیغ میں براہین قاطعہ اور معارف ساطعہ تحریر فرماویں۔یہ دونوں کتابیں دسمبر ۱۹۰۰ ء کی پندرہ تاریخ سے ستر دن تک چھپ کر شائع ہو جانی چاہئے۔تب اہلِ علم لوگ خود مقابلہ اور موازنہ کر لیں گے۔اور اگر اہل علم میں سے تین کس جوادیب اور اہلِ زبان ہوں اور فریقین سے کچھ تعلق نہ رکھتے ہوں قسم کھا کر کہہ دیں کہ پیر صاحب کی کتاب کیا بلاغت اور فصاحت کے رُو سے، اور کیا معارف قرآنی کے رُو سے ، فائق ہے تو میں عہد صحیح شرعی کرتا ہوں کہ پانسو روپیہ نقد بلا توقف پیر صاحب کی نذر کروں گا۔پیر صاحب دیگیر نہ ہوں ہم ان کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ بے شک اپنی مدد کے لئے محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبد الجبار غزنوی اور محمد حسن بھیں وغیرہ کو ملا لیں۔بلکہ اختیار رکھتے ہیں کہ کچھ طمع دیگر (276)