تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 20 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 20

تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ - ان تمام بیانات سے عیاں ہے کہ جس طرح نصوص قرآنیہ منتری کی جلد ہلاکت پر شاہد ناطق ہیں اُسی طرح بائیبل کی شہادت بھی اس باب میں یہی ہے۔پس ے لعنت ہے مفتری پر خدا کی کتاب میں عزت نہیں ہے ذرہ بھی اسکی جناب میں توریت میں بھی نیز کلام مجید میں لکھا گیا ہے رنگ وعید شدید میں کوئی اگر خدا پہ کرے کچھ بھی افتراء ہوگا وہ قتل ہے یہی اس جرم کی سزا (ورزشین) ۲۳ سالہ معیار اور علمائے اہلسنت والجماعت قرآن مجید کی تصریحات کے پیش نظر اس عنوان کی ضرورت نہیں تھی۔لیکن اتمام حجت کی خاطر اس ضمن میں بھی چند اقتباس درج ذیل ہیں۔(۱) عقائد کی مشہور کتاب شریح عقائد نسفی میں لکھا ہے :- فَإِنَّ الْعَقْلَ يَجْزِمُ بِاِمْتِنَاعِ اِجْتِمَاعِ هَذِهِ الْأُمُورِ فِي غَيْرِ الْأَنْبِيَاءِ وَ أَنْ يَجْمَعَ اللهُ تَعَالَى هذه الكَمَالَاتِ فِي حَقٌّ مَنْ يَعْلَمُ أَنَّهُ يَفْتَرِى عَلَيْهِ ثُمَّ يُمْهِلَهُ ثَلاثاً وَعِشْرِينَ سَنَةً - (مطبع مجتبائی صفحہ ۱۰۰) کہ عقل اس بات پر کامل یقین رکھتی ہے کہ یہ امور ( معجزات اور اخلاق عالیہ وغیرہ) غیر نبی میں نہیں پائے جاتے۔نیز یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ یہ باتیں کسی مفتری میں جمع نہیں کرتا اور یہ بھی کہ پھر اس کو تئیس برس مہلت نہیں دیتا۔“ (۲) حضرت امام ابن القیم ایک عیسائی مناظر کے سامنے بطور دلیل صداقت فرماتے ہیں :- وَهُوَمُسْتَمِرٌّ فِي الْإِفْتَرَاءِ عَلَيْهِ ثَلَاثَاً وَعِشْرِيْنَ سَنَةً وَهُوَ مَعَ مع ذلِكَ يُؤَيَّدة - (زاد المعاد جلد ا صفحه ۵۰) کہ کیس طرح ممکن ہے کہ جسے تم مفتری قرار دیتے ہو مسلسل تئیس برس تک اللہ تعالیٰ پر افتراء کرتا رہے اور اللہ تعالی بایں ہمہ اس کو ہلاک کرنے کی بجائے اس کی تائید کرے؟ گویا حضرت امام ابن القیم کے نزدیک تئیس برس تک مہلت پانا دلیل صداقت ہے۔(۳) شرح العقائد کی شرح النبراس میں ۲۳ سالہ معیار کی وجہ بایں الفاظ درج ہے :- 20