تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 21 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 21

" فَانَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّمَ بُعِثَ وَعُمْرُهُ أَرْبَعُونَ سَنَةً وَتُوَفِّيَ وَعُمْرُهُ ثَلَاثُ وَسِتَّوْنَ سَنَةً عَلَى الصَّحِيحِ “ ( صفحه ۴۴۴) کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چالیس برس کی عمر میں مبعوث ہوئے اور تریسٹھ سال کی عمر میں حضور کا وصال ہو گیا۔گو یا حضور بعد دعوئی وحی تئیس برس تک زندہ رہے۔اور یہ صداقت کا کامل معیار ہے۔یعنی جو مدعی وحی و الہام اتنا عرصہ مہلت پالے وہ یقینا سچا ہے۔(۴) مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری لکھتے ہیں :- (الف) نظام عالم میں جہاں اور قوانین خداوندی ہیں یہ بھی ہے کہ کاذب مدعی نبوت کی ترقی نہیں ہو ا کرتی بلکہ وہ جان سے مارا جاتا ہے۔“ (مقدمہ تفسیر ثنائی صفحہ ۱۷) (ب) دعوی نبوت کا ذبثل زہر کے ہے جو کوئی زہر کھائے گا ہلاک ہو گا۔“ (مقدمہ تفسیر ثنائی صفحہ ۱۷ حاشیہ) ان اقتباسات سے ظاہر ہے کہ اہلسنت والجماعت کے نزدیک بالا تفاق یہ عقیدہ مسلم ہے کہ مفتری جلد ہلاک ہوتا ہے اور اس کو تئیس برس کی مہلت نہیں مل سکتی۔یادرکھئے ؎ افتراء کی ایسی دم لمبی نہیں ہوتی کبھی۔جو ہو مثل مدت فخر الرسل فخر الخيار ایک شبہ کا ازالہ غیر احمدی علماء اس مقام پر عاجز آکر یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص ہے اور اس دلیل کا اثر صرف حضور کی صداقت پر پڑتا ہے وبس۔( کڑک آسمانی صفحہ ۸) یہ دعوی محض ”ڈوبتے کو تنکے کا سہارا والی بات ہے۔ورنہ کون اہل علم اس سے ناواقف ہے کہ دلیل اور مدلول میں لزوم ہے اور تخلف المدلول عن الدلیل سراسر غلط ہے۔رشیدیہ بحث انقض ) بھلا اگر زید کا حیوانِ ناطق ہونا اس کی انسانیت کی دلیل ہے تو بکر کا حیوانِ ناطق ہونا اس کو انسان کیوں ثابت نہیں کرتا ؟ ۲۳ سال تک بعد دعوای وحی ربانی مہلت پانا اگر دلیل صداقت ہے اور ہم رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے منکرین کے سامنے یہ دلیل پیش کر کے آپ کی صداقت منوا سکتے 21