تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 232 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 232

نے اس انجیلی بیان کی تردید کردی اسلئے آپ نے بھی اسے غلط قرار دے دیا اس میں اختلاف یا تناقض کیسے ثابت ہوا؟ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے کہا کہ اگر تم کھجوروں کو پیوند نہ لگاؤ تو شاید زیادہ پھل لگے۔دوسرے سال پھل کم لگا۔صحابہ نے پیوند نہ لگانے کا ارشاد یاد دلایا اور عرض کی کہ اس سال پھل بہت ہی کم لگے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ یہ میرا خیال تھا۔دُنیاوی امور میں تم مجھے سے زیادہ جانتے ہو۔آنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمُورِ دُنْيَاكُمْ (مسلم جلد ۲ صفحه ۳۰۵ مطبوعہ مصر ) پس صحیح تحقیق کا علم ہو جانے پر ، اور پھر وہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے، پہلی بات کو نا درست قرار دینا اختلاف نہیں کہلا تا بلکہ صحیح کہلاتا ہے جو بالکل ضروری اور سنتِ انبیاء کے عین مطابق ہے۔ایک لطیف مماثلت اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسی قرار دیا۔فرما یا انا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا ( المرجل ركوع ١ ) اور آئندہ کے لئے بشارت دی۔وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَتَهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ - الآية ( النور رکوع ۷ ) کہ اِس اُمت میں اللہ تعالیٰ ویسے ہی خلیفے قائم کرے گا جیسا کہ اُس نے پہلی امت میں کئے۔پس مثیل موسے کو ایک مثیل مسیح کا دیا جانا ضروری تھا اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانہ میں مسیح موعود کے آنے کی خوشخبری دی۔خدا کا جری آیا اور عین وقت پر آیا۔افسوس ان پر جنہوں نے اس کی مخالفت کی۔سیدنا حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کا عین اسی عرصہ بعد مبعوث ہونا جو حضرت موسی اور حضرت مسیح کے درمیان تھا خود ایک زبردست دلیل صداقت ہے مگر اس جگہ جس مشابہت کا میں ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ نہایت لطیف اور اہلِ ذوق کے لئے نکتہ جلیلہ ہے۔سید نا حضرت موسی کی وفات کے ذکر میں تو رات کہتی ہے کہ :۔خداوند کا بندہ موسیٰ خداوند کے حکم کے موافق موآب کی سرزمین میں مر گیا اور اس نے اسے موآب کی ایک وادی میں بیت فغفور کے مقابل گاڑا۔پر آج (232)