تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 231 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 231

(۲) خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم سے مخالفوں کو ذلیل کرنے کے لئے اور اس راقم کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ جو سری نگر میں محلہ خانیار میں یوز آسف کے نام سے قبر موجود ہے وہ در حقیقت بلا شک و شبہ حضرت عیسی علیہ السلام کی قبر ہے۔“ (راز حقیقت صفحہ ۲۰) ناظرین ! اس واضح اور قول فیصل کے ہوتے ہوئے اورست بچن میں ہی ہوتے ہوئے معترض پٹیالوی کا اس اختلاف کوست بچن کے حوالہ سے پیش کرنا دیانت اور انصاف کا خون کرنا نہیں تو اور کیا ہے؟ حضرت فرماتے ہیں کہ بلاد شام کی قبر کا خیال صحیح تحقیق پر مبنی نہیں ہے وہ اناجیل سے ماخوذ تھا صحیح تحقیق ، جس پر اللہ تعالیٰ کی گواہی بھی موجود ہے یہی ہے کہ حضرت مسیح کی واقعی قبر سری نگر میں ہے۔اس حقیقت واضحہ کو تضاد، اختلاف، اور تناقض بتانا بغض و عناد کا بدترین مظاہرہ ہے۔بھے اب بھی اگر نہ سمجھو تو سمجھائے گا خدا اس جگہ میں یہ بھی بتادینا چاہتا ہوں کہ اگر کسی بارہ میں دو قول ہوں تو ان میں سے بعد کے قول کو ترجیح دیکر اسے ناسخ اور پہلے کو منسوخ قرار دیا جاتا ہے۔حالت سفر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روزہ رکھنا اور افطار کرنا ثابت ہے۔اس پر امام زہری فرماتے ہیں :- قَالَ الزُّهْرِئُ وَكَانَ الْفِطْرُ آخِرَ الْأَمْرَينِ وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْآخِر فَالْآخِر “ (مسلم جلد اول کتاب الصوم صفحه ۴۱۵) کہ چونکہ روزہ نہ رکھنا بعد کا عمل ہے اسلئے وہی ارجح ہے اور آنحضرت کی سب سے پچھلی بات یا عمل کی ہی اقتداء کی جائے گی۔اسی بناء پر عام صحابہ کا مذہب یہی تھا کہ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْسَخُ حَدِيثُهُ بَعْضَهُ بَعْضًا (مسلم جلد اوّل كتاب الطهارة باب انّما الماء من الماء ) کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث دوسری حدیث کی ناسخ ہوسکتی ہے۔اسی طریق پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دونوں بیانات کو دیکھا جاسکتا ہے۔آپ نے اوائل میں انجیلی خیالات کے مطابق مسیح کی قبر یروشلم میں قرار دی لیکن بعد کی تحقیقات (231)