تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 233 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 233

کے دن تک کوئی اس کی قبر کو نہیں جانتا۔اور موسیٰ اپنے مرنے کے وقت ایک سو ہیں برس کا تھا۔“ (استثناءه - (۳۴) گویا یہودیوں کے نزدیک موسی کی قبر سب دُنیا سے مخفی تھی اور ان میں سے کوئی اس کو نہ جانتا تھا۔لیکن النَّبِيُّ الْأُمِّنُ سَيّدُ الأَنْبِيَاءِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں:- فَلَوْكُنتُ ثَمَّ لَآرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الْطَرِيْقِ تَحْتَ الكَثِيبِ الْأَحْمَرِ ( مسلم باب فضائل موسیٰ ) کہ موسیٰ کی قبر بیت المقدس کے قرب و جوار میں ہے۔اگر میں وہاں ہوتا تو سُرخ پہاڑی کے نیچے اور راستے کی جانب تم کو وہ قبر دکھاتا۔گویا آپ نے حضرت موسیٰ کی قبر، گمنام قبر، کا نشان بتایا۔حضرت مسیح ناصری کو عیسائی اور زمانہ حال کے بعض مسلمان آسمان پر بتاتے تھے اور اس کی قبر کے کلیہ منکر تھے به حضرت مثیل مسیح تشریف لائے اور آپ نے محلہ خانیار شہر سری نگر علاقہ کشمیر میں حضرت مسیح کی قبر کی نشان دہی فرمائی جس کے متعلق تاریخی شہادات طبعی گواہیاں، آیات قرآنیہ کے اشارات اور طبعی حالات نے قطعی طور پر فیصلہ کر دیا۔ضرور تھا کہ ایسا ہوتا۔تا کہ جس طرح حضرت موسی کی قبر کو بے نشان کہنے والوں کو مثیل موسی نے موسی کی قبر کا پتہ دیا اسی طرح حضرت مسیح کی قبر کو معدوم کہنے والوں کو مثیل مسیح ان کی قبر کا نشان بتاتا۔صَدَقَ اللهَ وَرَسُولُهُ فَأَمَنَّا بِاللَّهِ وَرَسُوْلِهِ وَنَحْنُ مِنَ الشَّاهِدِينَ - اسی لطیف مشابہت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے و فرمایا ہے کہ اگر چہ حضرت عیسی علیہ السلام کی تطہیر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی سے بھی عظمندوں کی نظروں میں بخوبی ہوگئی کیونکہ آنجناب نے اور قرآن شریف نے گواہی دی کہ وہ الزام سب جھوٹے ہیں جو حضرت عیسی علیہ السلام پر لگائے گئے تھے لیکن یہ گواہی عوام کی نظر میں نظری اور باریک تھی اسلئے اللہ تعالیٰ کے انصاف نے یہی چاہا کہ جیسا حضرت مسیح علیہ السلام کو مصلوب کرنا ایک مشہور امر تھا اور امور بدیہیہ مشہودہ محسوسہ میں سے تھا اسی طرح تطہیر اور برینت (233)