تفہیماتِ ربانیّہ — Page 230
اس موت کے بعد مسیح چالیس دن تک کشفی طور پر اپنے شاگردوں کو نظر آتا رہا۔یاد رہے کہ یہ تاویلات اس حالت میں ہیں کہ ہم ان عبارتوں کو صیح اور غیر محرف قبول کر لیں اس قبول کرنے میں بڑی دقتیں ہیں۔“ ازالہ اوہام صفحہ ۱۹۷ تا ۱۹۹ طبع سوم ) ناظرین کرام !ہر سہ عبارات آپ کے سامنے ہیں۔انکا ایک ایک لفظ پکار رہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس قبر کو یروشلم سے منسوب کیا ہے وہ از روئے اناجیل وعقائد نصاری ہے۔اور وہ وہ قبر ہے جس میں حضرت مسیح کو صلیب پر سے زندہ مگر حالت غشی میں اُتارنے کے وقت رکھا گیا تھا اور جس کی آج تک نصاری پرستش کر رہے ہیں۔پس اول تو یروشلم والی قبر عیسائیوں کی مجوزہ قبر ہے اور حضرت نے اسے انجیل کے حوالہ سے مسیح کی قبر قرار دیا ہے اس لئے سری نگر والی حقیقی قبر کا ذکر اس کے متناقض نہیں۔دوم حضرت نے یروشلم والی قبر کو ایک عارضی اور غیر مستقل بتایا ہے جہاں حضرت مسیح کو مماثلت یونس کی خاطر زندہ جانا پڑا اور وہاں سے آپ زندہ ہی نکل آئے۔چنانچہ آپ غارِ نور کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :۔گویا یہ تین نبی یعنی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح اور یونس علیہما السلام قبر میں زندہ ہی داخل ہوئے اور زندہ ہی اس میں رہے اور زندہ ہی نکلے۔66 ست بچن صفحه ۱۶۲ حاشیه) لیکن سری نگر والی قبر حقیقی موت کے بعد کی مستقل قبر ہے۔فَلَا أَشْكَالَ فِيْهِ۔الجواب الثالث - اس ظاہری اختلاف کا جو جواب خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تحریر فرمایا ہے وہ حسب ذیل ہے۔حضور فرماتے ہیں :۔(۱) ہاں ہم نے کسی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت مسیح کی بلاد شام میں قبر ہے مگر اب صحیح تحقیق ہمیں اس بات کے لکھنے کے لئے مجبور کرتی ہے کہ واقعی قبر یہی ہے جو کشمیر میں ہے۔“ (ست بچن صفحہ ۱۶۴ حاشیہ) (230)