تفہیماتِ ربانیّہ — Page 210
لا کر اسرار ورموز منکشف کرنے کے مدعی تھے مگر بجائے انکشاف کے لوگوں کو اور بھی چکر میں ڈال دیا۔“ (عشرہ صفحہ ۴۸) بے شک یہ درست ہے کہ متشابہات کے اصل معنی اصول اسلام کے مخالف نہیں ہوتے اور نہ یہاں ہیں لیکن سوال تو یہ ہے کہ مخالف اور دشمن ان کے وہ معنے کرتے ہیں جو حقیقت سے دُور ہوتے ہیں اور محکمات کے خلاف۔اسی لئے تو اُن کو متشابہات کہا جاتا ہے۔پھر اگر متشابہات کے باعث لوگ ( مثل معترض پٹیالوی) چکر میں پڑتے ہیں تو خودان کی اپنی بدقسمتی ہے ورنہ محکمات کی موجودگی میں چکر میں پڑنے کی ضرورت کیا ہے؟ بلا شبہ حضرت مرزا صاحب (فارسی الاصل ) قرآن پاک کو ثریا سے لائے اور آپ نے قرآنی معارف کے دریا بہا دیئے لیکن اس کا کیا علاج کہ خطا کار لوگ پہلے دور میں بھی اس کے ذریعہ گمراہ ہوئے اور اب بھی ہوتے ہیں۔يُضِلُّ بِهِ كَثِير أَوَيَهْدِى بِهِ كَثِير أَوَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفَسِقِينَ قرآن پاک کی شان ہے۔پس یہ صرف اپنی ہی کج فہمی ہے ورنہ الہامات نہایت واضح ہیں۔کیا قرآن پاک میں کوئی التباس ہے؟ ہر گز نہیں۔مگر اس کی متشابہات کے متعلق بھی معترض پٹیالوی وغیرہ کی طرح اہلِ زیغ کا کیا شیوہ ہے؟ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے الفاظ میں پڑھ لیجئے:۔اس جگہ خداوند تعالیٰ نے گو محکم اور متشابہ کی ماہیت اور تعیین نہیں بتلائی۔لیکن اس میں شک نہیں کہ متشابہات کا نتیجہ بتلا دیا جس سے ان کی ماہیت کا بھی مِنْ وَجہ علم ہو گیا۔چنانچہ ارشاد ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں بچی ہے وہ متشابہات کے پیچھے بغرض فتنہ پردازی پڑتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم ان کے اصلی معنے سمجھنا چاہتے ہیں یا جو ہم نے بیان کئے ہیں یہی اصلی ہیں۔اب ہم اپنے زمانہ کے اہل زیغ (عیسائیوں اور آریوں ہندوؤں وغیرہم) کو دیکھتے ہیں تو اس آیت کی بالکل صداقت پاتے ہیں کہ یہ لوگ قرآن شریف کی جن آیتوں پر اعتراض کرتے ہیں وہ آیات بول رہی ہیں کہ ہم متشابہات ہیں اور ہم پر نکتہ چینی کر نیوالے (210)