تفہیماتِ ربانیّہ — Page 211
اہل زیغ ہیں۔مثلاً آیت نَسُوا اللهَ فَنَسِيَهُمْ جس کے ظاہری معنی ہیں منافق خدا کو بھول گئے اور خدا منافقوں کو بھول گیا۔اہلِ زیغ تو سُنتے ہی سٹپٹائے کہ خدا بھی کسی کو بھول جاتا ہے۔دیکھو مسلمانوں کا خدا بھولتا ہے۔ایسا ہے ، ویسا ہے۔یا دوسری آیت اِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ جس کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ جو لوگ تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں اللہ کا ہاتھ اُن کے ہاتھوں پر ہے۔اس پر اہل زیغ نے شور مچایا کہ محمد ( صلے اللہ علیہ وسلم ) تو جز و خدائی کے مدعی ہیں اپنے ہاتھ کو خدا کا ہاتھ بتلاتے ہیں۔یا آیت مسیح علیہ السلام کے روح اللہ اور کلمتہ اللہ والی جس کے ظاہری معنی سے اہلِ زیغ نے ورقوں کے ورق سیاہ کر دیئے کہ قرآن بھی مسیح کی الوہیت کا مقر ہے۔۔۔غرض اس قسم کی کاروائیاں اہلِ زیغ کی دیکھ کر یقین ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی بعض آیتیں بے شک متشابہ ہیں اور بعض محکم۔کیونکہ متشابہات کے معنی ہیں ملی جلی ، جس کو کم فہم مخاطب سرسری نظر سے نہ پہچان سکے۔لیکن جو لوگ سمجھدار اور راسخ فی العلم ہیں اُن کو تو ان باتوں کی خوب پہچان ہے پس ہماری تقریر سے ثابت ہوا کہ متشابہات وہی احکام اور آیات قرآنی ہیں جن کو اہل زیغ بغرض فتنہ پردازی اشاعت کریں۔عام اس سے کہ وہ حروف مقطعات ہوں، نعماء جنت ہوں، یا عذاب دوزخ ، سمع، بصر صفات خداوندی ہوں، یا معجزات نبوی، احکام متبدلہ ہوں یا ثابتہ، اگر قرآن شریف پر غور کیا جاوے تو یہ معنی ٹھیک معلوم ہوتے ہیں۔پس جو آیات اہلِ زیغ کے لئے۔مزلۃ الاقدام ہوں اور وہ بے مجھی سے ان کے ذریعہ فتنہ پردازی کریں وہی متشابہات ہیں۔“ (تفسیر ثنائی جلد ۲ صفحہ ۷۳ حاشیہ ) (211۔