تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 167 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 167

زَيْدًا عَلَى كَرْمِهِ وَعِلْمِهِ کہ تم زید کی سخاوت اور اس کے علم کی بناء پر اس کی حمد کر سکتے ہو یعنی لفظ حمد بولنا جائز ہے۔(تفسیر بیضاوی زیر آیت الحمد لله ) مجمع الجار میں بھی لکھا ہے : إِنَّكَ تَحْمَدُ الرّجُلَ عَلَى صِفَاتِهِ الذَّاتِيَةِ وَعَلَى عَطَاءِهِ ( جلد ا صفحہ ۳۰۰) کہ ہر شخص کی صفات اور بخشش وغیرہ پر لفظ محمد کا اطلاق ہو سکتا ہے کافروں کا اپنے لئے لفظ محمد شاعر اپنے قبیلہ کی تعریف میں کہتا ہے لَنا حَمْدُ أَرْبَابِ الْمِينَ وَلَا يُرى إلى بَيْتِنَا مَالٌ مَعَ اللَّيْلِ مَرَائِحُ (حماسه مجتبائی صفحہ ۵۰۳) یہاں شاعر نے اپنے لئے لفظ محمد کا استعمال کیا ہے۔منافقوں کے لئے لفظ حمد اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے وَيُحِبُّونَ أَنْ تُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا ( آل عمران ع۱۹) گویا اس آیت میں لفظ حمد منافقوں سے منسوب کیا گیا ہے کہ وہ جھوٹے طور پر اپنی حمد چاہتے ہیں۔مومنوں کے لئے لفظ حمد مسلم شریف میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ وعظ فر مار رہے تھے کہ ایک شخص نے سوال کیا او يأتى الخير بالشتر۔آپ نے تھوڑی خاموشی کے بعد فرمایا ” این هذا السائل “ کہ سوال کرنے والا کہاں ہے؟ اس پر راوی کہتا ہے گانہ حَمِدَہ گویا رسول پاک نے اس سائل کی تعریف فرمائی۔اس جگہ ایک مومن کے لئے محمد کا لفظ مستعمل ہوا ہے۔جلدا صفحه ۳۸۷ باب تخوف ما يخرج من زهرة الدنيا ) دوسری حدیث میں ہے :- قِيْلَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَعْمَلُ الْعَمَلَ مِنَ الْخَيْرِ وَيَحْمَدُهُ النَّاسُ عَلَيْهِ قَالَ 167