تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 166 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 166

مقابلہ قرار دینا انتہائی جہالت ہے۔بھلا جب خدا تعالیٰ نے بندہ میں حمد کی بنیاد یعنی خوبیاں ودیعت فرمائی ہیں تو اس کی بالتبع حمد کیوں حرام ٹھہری؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن کے الہام پر اعتراض کیا گیا ہے خود تحریر فرماتے ہیں :- " لا يَتَحَقِّقُ حَقِيْقَةُ الْحَمْدِ كَمَا هُوَ حَقَّهَا إِلَّا لِلَّذِي هُوَ مَبْدَءُ لِجَمِيعِ الْفُيُوضِ وَالْأَنْوَارٍ وَمُحْسِنُ عَلَى وَجْهِ الْبَصِيرَةِ لَا مِنْ غَيْرِ الشُّعُورِ وَلَا مِنَ الْاِضْطِرَارِ فَلَا يُوجَدُ هَذَا الْمَعْلَى إِلَّا فِي اللهِ الخَبِيرِ الْبَصِيرِ وَإِنَّهُ هُوَ الْمُحْسِنُ وَمِنْهُ الْمِنَنَّ كُلُّهَا فِي الْأَوَّلِ وَالْآخِيرِ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي هَذِهِ الدَّارِ وَتِلْكَ الدَّارِ وَالَيْهِ يَرْجِعُ كُلُّ حَمْدٍ يُنْسَبُ إِلَى الْأَغْيَارِ “ ترجمہ - حقیقت محمد اصلی طور پر صرف اسی ذات میں متحقق ہے جو تمام فیوض و انوار کی منبع و سرچشمہ ہے اور بالا رادہ عمد ابلا جبر وا کراہ احسان کرنے والی ہے اور یہ بات بجز اللہ خبیر و بصیر کے نہیں پائی جاتی پس وہی حقیقی محسن ہے اور پہلے اور پیچھے سب احسانات اُسی کی طرف سے آتے ہیں اس لئے اس دنیا اور اگلے جہان میں حقیقی حمد اسی کے لئے ہے۔اور جو محامد اس کے غیر سے منسوب ہیں وہ بھی دراصل اسی کی طرف راجع ہیں۔“ (اعجاز اسیح صفحه ۱۲۵) لپس الہام ” يَحْمَدُكَ“ میں حمد ذاتی مراد نہیں کیونکہ وہ بہر صورت مختص بذات الباری تعالٰی ہے اور رہے گی۔ہاں عرضی حمد جو خدا کے پیدا کرنے سے ہوتی ہے اس جگہ مراد ہے۔جواب (ب) اِس جگہ اگر یہ سوال کیا جائے کہ لفظ حمد کا غیر اللہ کے لئے استعمال مطلقا نا جائز ہے تو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ سب غلطی کمی علم سے پیدا ہوتی ہے۔قرآن مجید اور عربی زبان کی رُو سے یہ نا جائز نہیں۔بلکہ بسا اوقات غیر اللہ کے لئے لفظ حمد بولا گیا ہے۔طوالت کلام سے اجتناب کرتے ہوئے ذیل میں صرف چند امثلہ ذکر کی جاتی ہیں۔عام انسانوں کے لئے لفظ محمد امام بیضاوی کہتے ہیں : - حـمـدت 166)