تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 168 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 168

تِلكَ عَاجِلُ بُشْرَى الْمُؤْمِنِ۔“ $6 (مسلم جلد ٢ كتاب البر والصلة) عرض کیا گیا کہ اے رسول خدا! ایک انسان نیک کام کرتا ہے تو لوگ اس کی حمد کرتے ہیں۔فرمایا یہ مومن کے لئے پہلی بشارت ہے۔“ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لفظ محمد (1) اللہ تعالیٰ نے فرما یا عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا فَخَمُودًا۔اس کی تفسیر میں لکھا ہے افْعَلْ هَذَا الَّذِئ اَمَرْتُكَ بِهِ لِنُقِيمَكَ يَوْمَ الْقِيمَةِ مَقَامًا مَّحْمُودًا يَحْمَدُكَ فِيهِ الْخَلَائِقُ كُلُّهُمْ وَخَالِقُهُمْ تَبَارَكَ وَتَعالى “ ( تفسیر ابن کثیر جلد ۶ صفحه ۹۲) گو یا مقام محمود وہ ہے جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام مخلوقات اور خود اللہ تعالیٰ حمد کرے گا۔اس عبارت میں لفظ ” يحمدك، خاص طور پر قابل یادداشت ہے۔(۲) اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) رکھا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ وہ ذات جس کی بکثرت اور بار بار حمد کی جائے۔ان معنوں کے لئے حوالجات ذیل ملاحظہ ہوں :- (الف) لسان العرب میں لکھا ہے : مُحَمَّدُ هَذَا الْإِسْمِ مِنْهُ كَأَنَّهُ حُمِّدَ مَرَّةً بَعْدَ أُخْرى “ (ب) مجمع الجار میں لکھا ہے : إِذا بَلَغَ النَّهَايَةِ وَتَكَا مَلَتْ فِيْهِ الْمَحَاسِنُ فَهُوَ مُحَمَّدٌ وَهُوَ مَنْقُولُ مِنَ الصَّفَةِ لِلتَّاوّلِ إِنَّهُ سَيَكْثِرُ حَمْدُه (جلد اول زیر لفظ (حمد) گویا آنحضرت کا نام محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اسی لئے رکھا گیا تا آپ کی کثرت حمد پر دلالت کرے۔(ج) امام ابن القیم لکھتے ہیں :۔تَسْمِيَتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْإِسْمِ أَنْ مُحَمَّدٍ) لِمَا اشْتَمَلَ عَلَيْهِ مِنْ مُسَمَّاهُ وَهُوَ الْحَمْدُ فَإِنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَحْمُودٌ عِنْدَ اللهِ وَمَحْمُودُ عِنْدَ الْمَلَائِكَةِ وَ ، (168)