تفہیماتِ ربانیّہ — Page 165
کو اسلام سے خارج قرار دیا تھا۔بتائیے اگر معترض کا بیان درست ہے تو ان بزرگوں یا علماء پر کیا فتویٰ لگے گا؟ بینوا توجروا۔66 (۳) يَحْمَدُكَ اللهُ مِنْ عَرْشِهِ وَيَمْشِي إِلَيْكَ ، معترض پٹیالوی اس الہام کو درج کرنے کے بعد لکھتا ہے :- قرآن مجید کی پہلی آیت ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ۔سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے سزاوار ہیں جو جہانوں کو پالنے والا ہے۔ادھر سردار انبیاء حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوتا ہے اپنے خدا کی حمد کر۔کیا مرزا صاحب کے الہام سے بموجب آیات قرآنی اللہ تعالیٰ کا مقابلہ اور خیر البشر حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک متصور نہیں؟ اور کیا خدا سے اپنی حمد کرا کر مرزا صاحب نے صریح طور پر محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی فضیلت کا اظہار نہیں کیا ؟ ( عشرہ صفحہ ۴۷) الجواب اعتراض کا خلاصہ دو فقروں میں ہے :- (۱) مرزا صاحب نے الہام "يَحْمَدُكَ الله “ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا مقابلہ کیا۔(۲) اس الہام سے مرزا صاحب نے آنحضرت پر فضیلت کا ادعاء کیا اور آنحضرت کی ہتک کی۔( العیاذ باللہ ) فقرہ اوّل کا جواب - (الف) بلاشبہ یہ درست ہے کہ بالذات اور حقیقی طور پر صرف ذات باری ہی حمد کی مستحق ہے۔جس طرح الْحَيُّ الْقَيُّومُ السَّمِيعُ ، الْبَصِيرُ الْخَبِيرُ حقیقی طور پر اللہ تعالی ہی کے اوصاف ہیں مگر انسان بھی زندہ ، قائم ، سننے والا ، دیکھنے والا اور خبر دار کہلاتا ہے۔بلکہ خود قرآن مجید میں بھی ایسی صفات انسان سے منسوب کی گئی ہیں۔اگر کوئی نادان کہے کہ دیکھو خدا بھی زندہ ہے اور تم بھی زندہ ، وہ بھی سننے والا اور تم بھی سننے والے، گویا تم خدا کے شریک ٹھہرے۔“ تو اس کو یہی جواب دیا جائے گا کہ بے شک خدا بھی زندہ ہے اور ہم بھی زندہ ہیں لیکن ہماری زندگی بالتبع اور اس کے واسطہ سے ہے، جب تک وہ زندہ رکھے ہم زندہ ہیں۔بعینہ اسی طرح حمد کا حقیقی طور پر خدا ہی مستحق ہے لیکن اگر خدا تعالیٰ ہی کے حکم سے بالتبع کسی انسان کی حمد ہو تو اس کو خدا کا 165)