تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 155 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 155

کہ حقیقی اور یقینا حقیقی ہی مراد ہے تو معترض کے مندرجہ بالا پوچ اور لچر استدلال کے کیا معنی؟ اور اگر کہو کہ مجازی تو اول اس کا ثبوت کیا ہے اور مجازی ولد کی تعریف قرآن مجید میں کیا لکھی ہے؟ نیز یہ بھی فرمائیے اس صورت میں مولانا روم پر کیا فتویٰ عائد کرو گے جو فرماتے ہیں ے اولیاء اطفال حق انداے پسر در حضور و غیبت آگاه با خبر و ( مثنوی دفتر سوم صفحه ۱۳) پھر حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کو کیا کہو گے جو تحریر فرماتے ہیں :۔اگر لفظ ابناء بجائے محبوباں ذکر شده باشد چه عجب (الفوز الکبیر صفحه ۸) ہاں آیت مذکورہ میں مجازی معنے مراد نہ ہونے کا جلی ثبوت قرآن مجید کی یہ آیت بھی ہے آتى يَكُونَ لَهُ وَلَهُ وَلَمْ تَكُنْ لَهُ صَاحِبَةٌ ( انعام رکوع ۱۳ ) یہ سوال حقیقی معنی کی صورت میں ہی ہو سکتا ہے ، مجازی کی صورت میں ہو ہی نہیں سکتا۔بالمقابل مجازی کے جواز کا قرینہ نَحْنُ أَبْنَاءُ اللهِ وَاحِبَّاهُہ پر عدم انکار صاف موجود ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ ابن یا ولد کا لفظ بمعنی حبیب استعمال ہوا ہے اور بقرینہ آیت لَا تَتَّخِذُوا الْهَيْنِ اثْنَيْنِ وغيره آیات منہی عنہ حقیقی معنے میں نسبت اہنیت ہے جس کو الوہیت لازم ہے نہ کہ بطور استعارہ محبوبیت الہی والے معنے۔کیونکہ حبیب اللہ ہونے کا دعویٰ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔بلکہ ہر مومن اور اپنے متبع کا یہ مقام بتایا ہے فَاتَّبِعُونِي يُحببكُمُ الله۔یہ بھی یادر ہے کہ مجازی اطلاق میں کوئی خاص صفت یا مشابہت مراد ہوتی ہے نہ جمیع صفات۔پس ” مجازی معبود کا استدلال نہایت رکیک، خلاف محاورہ ، اور محض مغالطہ دہی پر مشتمل ہے وبس۔توضيح۔ع مرام اور عیسائیوں کے عقیدہ کی تائید دو معترض پٹیالوی نے تو صیح مرام سے ایک سطر لکھ کر تحریر کیا ہے کہ اس میں مرزا صاحب نے عیسائیوں کے عقیدہ کی صاف تائید کی ہے۔کیا عیسائی لوگ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے فقرہ استعارہ کے طور پر ابنیت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں میں ان کے عقیدہ کی صاف تائید یا معمولی سی تائید بھی کی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ آپ نے اس فقرہ میں "مسیح اور اس عاجز کا مقام اور پھر استعارہ لے جناب مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی بھی تحریر فرماتے ہیں : خداوند تعالیٰ نے کسی اپنے اچھے بندے کو جیسے انبیاء، اولیاء، فرزند کہدیا تو اس کے بھی یہی معنے ہونگے کہ خدا تعالیٰ ان بزرگوں پر مہربان ہے۔حقیقی ابوت یا بنوت ایسی جا پر سمجھ لینا اور خدا تعالیٰ کو حقیقی باپ اور ان کو حقیقی بیٹا سمجھنا سخت بے جا ہو گا۔“ (رسالہ حجتہ الاسلام صفحہ ۱۴) 155)