تفہیماتِ ربانیّہ — Page 156
کا لفظ لکھ کر عیسائی عقیدہ کی زبردست تردید کی ہے لیکن ہم مزید وضاحت کے لئے تو ضیح مرام کی مکمل عبارت درج کرتے ہیں۔لکھا ہے :- یہ وہ عالی مقام ہے کہ میں اور مسیح دونوں اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے۔اس کا نام مقام جمع اور مقامِ وحدتِ تامہ ہے۔پہلے نبیوں نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی خبر دی ہے اسی پستہ ونشان پر خبر دی ہے اور اسی مقام کی طرف اشارہ کیا ہے اور جیسا مسیح اور اس عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طور پر ابنیت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ایسا ہی یہ وہ مقام عالیشان مقام ہے کہ گزشتہ نبیوں نے استعارہ کے طور پر صاحب مقام ہذا ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ظہور کو خدا تعالیٰ کا ظہور قرار دے دیا ہے اور اس کا آنا خدا تعالے کا آنا ٹھہرایا ہے۔( توضیح مرام صفحہ ۲۷ طبع دوم ) وو اخیر پر لکھا ہے :- ” یہ سب روحانی مراتب ہیں کہ جو استعارہ کے طور پر مناسب حال الفاظ میں بیان کئے گئے ہیں۔یہ نہیں کہ حقیقی بہنیت اس جگہ مراد ہے یا حقیقی الوہیت مراد لی گئی ہے۔“ ( توضیح مرام صفحہ ۲۸) توضیح مرام کی عبارت کا نقل کر دیتا ہی معترض پٹیالوی کی فریب کاری کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے اس لئے اس پر مزید بحث کی ضرورت نہیں۔ہاں اس جگہ قرآن مجید کی روشنی میں اس مسئلہ پر بحث کرنے والے صوفیاء میں سے ایک کا حوالہ درج کرنا مناسب ہے۔مشہور کتاب فُصوصُ الْحِكَمُ کی شرح خَزَائِنُ أَسْرَارِ الكَلِم میں لکھا ہے :- (الف) تیسرا مقام فناء الفناء کا ہے کہ محویت اس میں اس قدر ہوتی ہے کہ سالک کو اپنے نفس اور فناء کا بھی شعور باقی نہیں رہتا۔اسی مقام میں لہ اس عبارت سے معترض کا یہ شبہ بھی مٹ جاتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مجازی معبود بنتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند ہیں اور یہی آپ کا دعوی ہے۔(ابو العطاء) (156)