تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 154 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 154

اور فرما یا يَدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ۔ایسا ہی بجائے قُلْ يَا عِبَادَ اللهِ کے قُلْ يَا عِبَادِی بھی کہا اور یہ بھی فرمایا فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكرِكُمْ آبَاءَكُمْ - پس اس خدا کے کلام کو ہشیاری اور احتیاط سے پڑھو اور از قبیل متشابہات سمجھ کر ایمان لاؤ اور اس کی کیفیت میں دخل نہ دو اور حقیقت حوالہ بخدا کرو۔اور یقین رکھو که خدا اتخاذ ولد سے پاک ہے تاہم متشابہات کے رنگ میں بہت کچھ اس کے کلام میں پایا جاتا ہے پس اس سے بچو کہ متشابہات کی پیروی کرو اور ہلاک ہو جاؤ اور میری نسبت بینات میں سے یہ الہام ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے قل إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَى أَنَّمَا الْهُكُمْ إِلَهُ وَاحِدٌ یمه وَالْخَيْرَ كُلُّهُ فِي الْقُرْآنِ ( وافع البلاء صفحہ ۶-۷ حاشیہ) قارئین کرام ! آپ نے دیکھا کہ معترض پٹیالوی نے جن دو حوالوں کی بناء پر حضرت اقدس پر انتہا لگایا تھا وہاں پر کس زور کے ساتھ اس کی تردید موجود ہے کہ خدا کا کوئی ولد ہے۔یہ ان لوگوں کی دیانتداری کا حال ہے۔ہاں آپ اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ حضرت مرزا صاحب نے اس قسم کے الہامات کو متشابهات قرار دیا ہے۔آپ اسے ضرور یاد رکھیں۔یہ آئندہ کام آئے گا۔استعاری یا مجازی معبود افسوس کہ وہ لوگ جن کو اس قدر بھی علم نہیں کہ استعارہ اور مجاز کلام کی صفات ہیں ، ذات انسان کی نہیں ، وہ بھی احمدیت پر معترض ہیں۔مجازی معبود کے لفظ سے اگر تو عوام کے جذبات بھڑ کانے مقصود ہیں تو شاید جہال میں یہ مراد بر آجائے ورنہ گون صاحب علم و عقل ہے جو ایک لمحہ کے لئے بھی اس کو درست تسلیم کر سکتا ہے۔بھلا اتنا ہی غور فرمائیے کہ آیت قرآنی إِن كَانَ لِلرَّحْمنِ وَلَدٌ “ میں لفظ ولد سے حقیقی ولد مراد ہے یا مجازی۔اگر کہو ے اللہ کا ہاتھ اُن کے ہاتھوں پر تھا ( الفتح رکوع (۱) سے تو اے رسول کہہ اے میرے بندو! (الزمر رکوع ۶) سے اللہ کو یاد کرو جیسا کہ تم اپنے بالوں کو یاد کرتے ہو (بقره ۲۵۶) سے کہہ دے کہ میں صرف بشر ہوں۔میری طرف وحی ہوئی ہے کہ تمہارا ایک ہی خدا ہے اور ہر خیر قرآن مجید میں ہے۔“ مؤلف (154)