تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 11 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 11

کہلانے والے آیاتِ مذکورہ کی موجودگی میں بھی خدا تعالیٰ کے سچے رسول اور نبی برحق حضرت میرزاغلام احمد قادیانی علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف انہی اعتراضات کو دُہرا رہے ہیں جو بار ہا انبیاء صادقین پر کئے گئے اور غلط قرار پائے۔مصنف کتاب عشرہ کاملہ نے پہلی فصل میں بزعم خود دین کا ذب مدعیانِ نبوت“ کا ذکر کیا ہے اور یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مشابہت ( نعوذ باللہ ) اسی گروہ سے ہے۔کیونکہ جس طرح حضرت مرزا صاحب کو بعد دعوی وحی والہام ایک لمبا عرصه ( کم و بیش تیس برس تک اشاعت دعویٰ کے لئے مہلت ملی ہے ویسے ہی بعض کا ذب مدعی بھی ایسے گزرے ہیں جو طویل عرصہ تک جھوٹے الہامات کی اشاعت کرتے رہے ہیں اور انہوں نے قبولیت حاصل کی ہے۔گویا مصنف مذکور کی تمام کوشش کفار کے قول اِنْ هَذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ کی صدائے بازگشت ہے۔منشی محمد یعقوب صاحب کی اس جدو جہد کی علت غائی ان کے اپنے الفاظ میں یوں ہے :- 32 مرزا صاحب آیت وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِیل سے یہ نتیجہ نکالتے تھے کہ اگر میں جھوٹا ہوتا تو ۲۳ سال تک مہلت نہ پاسکتا جو زمانہ نبوت حضرت ختم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر ہے۔لیکن اس آیت سے ان کا یہ استدلال باطل ہے کیونکہ کئی کا ذب مدعیان کا زمانہ ۲۳ سال کی مدت سے زیادہ ہے۔جیسے ابو منصور ۲۷ سال - محمد بن تومرت ۲۴ سال - حسن بن صباح ۳۵ سال- صالح بن طریف ۴۷ سال۔اکبر بادشاہ ہند ۲۵ سال وغیرہ۔اور ایسے ہی کئی صادق نبیوں کا زمانہ نبوت ۲۳ سال سے بہت کم ہے مثلاً حضرت ذکر یا اور حضرت یحیی علیہ السلام۔بفرض محال اگر مرزا صاحب کا استدلال مان بھی لیا جاوے تو انہوں نے ۹۰۱ یہ سے پہلے دعوئی نبوت کو کفر قرار دیا ہوا تھا۔سنہ مذکور میں دعوی کیا اور سات برس بعد ۱۹۰۸ء میں مرگئے۔۲۳ سال نبی کہاں رہے۔یہ آیت بھی مکی ہے۔جہاں حضور علیہ الصلوۃ والسلام بعد دعوی نبوت ۱۳ سال تشریف فرما ر ہے پھر ۲۳ سالہ مدت کی حجنت کفار مکہ پر کس طرح پیش ہو سکتی تھی۔‘ (حاشیہ صفحہ ۲۰-۲۱) 11