تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 12 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 12

گویا آپ آیت وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا کے محکم استدلال کو ان ہوائی باتوں سے غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں اور اسی ایک مقصد کے لئے آپ نے رطب و یابس اور بے سروپا باتیں لکھ دی ہیں۔ہم تفصیلی طور پر جواب شروع کرنے سے پہلے منشی صاحب کا اعتقاد بھی ان کے اپنے الفاظ میں درج کر دیتے ہیں۔لکھتے ہیں :- " قرآن شریف میں کہیں ذکر نہیں کہ مفتری جلد ہلاک کر دیا جاتا ہے۔خدا پر افترا کرنے والے بعض جلدی مارے گئے۔بعض پہلے نہایت غریب تھے مگر افتراء علی اللہ کرنے کے بعد بادشاہ بن گئے اور عرصہ تک بادشاہت کے ساتھ اپنے افتراء کی بھی اشاعت کرتے رہے۔چنانچہ عبد اللہ صاحب افریقہ۔ابن تومرت - صالح بن طریف نے نبوت اور نزول وحی کے دعوے کئے اور تینوں بادشاہ ہوئے۔اور عرصہ تک بادشاہت کرتے رہے۔ان کی اولاد اور اُمت میں بھی عرصہ دراز تک حکومت وسلطنت رہی۔یہی حال سچے نبیوں کا ہوا ہے کہ بعض کو دشمنوں نے جلد ہی شہید کر دیا۔جیسے حضرت یحیی، حضرت زکریا علیہا السلام۔اور بعض زیادہ عرصہ تک ہدایت پھیلاتے رہے۔“ (صفحہ ۷۰) ان ہر دو بیانات کا شخص یہ ہے کہ :- (الف) آیت وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا سے ۲۳ سال والا معیار ثابت نہیں کیونکہ کئی کا ذب مدعیان نبوت کا زمانہ ۲۳ سال سے زیادہ ہوا ہے۔گویا آیت قرآنی کا یہ مفہوم تاریخی واقعات کے خلاف ہے۔(ب) نیز کئی صادق نبیوں کا زمانہ ۲۳ سال سے بہت کم ہوا ہے۔جیسے حضرت سیحی وغیرہ۔(ج) ۲۳ سالہ معیار کو درست مان کر بھی حضرت مرزا صاحب کی صداقت ثابت نہیں ہوسکتی۔کیونکہ آپ کو صرف سات سال مہلت ملی ہے اور پھر آیت بھی ملکی ہے جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ۲۳ سال نہیں رہے۔آیت وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا اور معیار قرآن مجید ایک محکم کتاب ہے۔دُنیا کا کوئی علم اس کے ایک شوشہ کو 12