تفہیماتِ ربانیّہ — Page 10
زبردست گواہ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے صادقوں اور کا ذبوں میں امتیازات قائم کر دیئے ہیں تا دنیا گمراہی سے نجات پاوے اور حق کی مخالفت سے تباہ نہ ہو جاوے۔کیا یہ ممکن تھا کہ وہ غیور خدا جو انبیاء کے متبعین سے انتیازی سلوک کا وعدہ فرماتا ہے اور متقین کے لئے فرقان بنایا کرتا ہے۔صادق اور کا ذب نبیوں کو بلا امتیاز چھوڑ دیتا؟ ہرگز نہیں۔خدا تعالیٰ نے فیصلہ فرمانے میں کوئی کوتا ہی نہیں فرمائی۔مگر افسوس کہ نادان ان قوانینِ الہیہ کو پس پشت ڈال کر اس کی کھلی کھلی تائیدات سے انحراف کر کے اور کچے نبی کے پاک چہرہ سے، اس کے پاکیزہ افعال اور عمدہ تعلیمات سے انکار کر کے اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہو جاتے ہیں اور اس پر ایمان لانے کی بجائے اعتراضات کا لامتناہی سلسلہ شروع کر دیتے ہیں۔لیکن صاحب بصیرت انسان کے لئے ان اعتراضات کے باوجود صداقت اپنی پوری شان سے ظاہر ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ رسولوں کی ایک علامت یہ بھی ہوتی ہے کہ ان کے مخالف وہی اعتراض کرتے ہیں جو پہلے نبیوں کے مکذبین کرتے رہے اور اس طرح وہ اپنے مسلمات سے بھی انکار کر بیٹھتے ہیں۔قرآن مجید نے کیا ہی لطیف پیرایہ میں اس صداقت کا اظہار فرمایا ہے۔قُل مَا كُنتُ بِدَعَا مِنَ الرُّسُلِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بگم (احقاف رکوع ۱) کہ تو ان لوگوں سے کہہ دے کہ میں کوئی نیا رسول نہیں ہوں۔مجھ سے پہلے بھی انبیاء ورسل مبعوث ہو چکے ہیں۔تم اسی منہاج پر مجھے پر کھلو۔دوسری آیت میں فرمایا۔مَا يُقَالُ لَكَ إِلَّا مَا قَدْ قِيلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ، ( حم السجدہ رکوع ۵ ) کہ اے رسول! تجھ پر لوگ وہی اعتراض کرتے ہیں جو گزشتہ صادق نبیوں پر کئے گئے۔حالانکہ وہ اعتراضات قبل از میں غلط قرار پاچکے ہیں۔پس آج بھی ان کے اعتراضات باطل ہیں اور تُو راستباز ہے۔اس فرقانی معیار کے مطابق ہر وہ اعتراض جو مخالفین صداقت نے گزشتہ نبیوں پر کیا غلط اور نا قابل التفات ہے۔کس قدر حیرت اور تعجب کا مقام ہے کہ مسلمان ل آم تَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَارِ (ص رکوع ۳ ) : إن تَتَّقُوا اللهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانَا ( انقال رَکوع ۴) سے ایک حدیث کے الفاظ اِن وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابِ ( ترمذی جلد ۲ صفحہ ۷۲) کی طرف اشارہ ہے۔یعنی یہ منہ تُجھوٹے کامنہ نہیں ہوسکتا۔“ 10