تفہیماتِ ربانیّہ — Page 153
"2 66 استعارہ کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں۔مرزا صاحب نے اس جگہ عیسائیوں کے باطل عقیدہ کی کیسی صاف تائید کی ہے۔جو قرآن کریم کے بالکل خلاف ہے۔“ کم (عشره صفحه ۴۶) وو الجواب معترض نے تین الہام پیش کئے ہیں جن میں سے آخری ” اسمع ولدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام نہیں بلکہ دراصل اسمع واری“ ہے (دیکھو مکتوباتِ احمد یہ جلد ا صفحه (۲۳) جو کہ بابو منظور الہی کی کتاب البشرکی میں درج ہوتے وقت سہو کا تب سے واری کی بجائے ولدی“ بن گیا ہے۔اصل الہام کے معنی ہیں خدا فرماتا ہے ” میں سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔ہاں اول الذکر دونوں الہام موجود ہیں۔میں ان کے متعلق فصل دوم میں مفصل لکھ چکا ہوں اب اعادہ کی ضرورت نہیں۔صرف درونگو را تا بخانه اش باید رسانید کے مطابق حقیقۃ الوحی صفحہ ۸۶ اور دافع البلاء صفحہ ۶ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تشریح دوبارہ لکھ دیتا ہوں۔تا ناظرین اندازہ کر سکیں کہ مصنف عشرہ کاملہ نے فقرہ ”مرزا صاحب نے ظاہر کیا ہے کہ اللہ نے ان کو دلد کہہ کر مخاطب کیا ہے میں کہاں تک دیانتداری سے کام لیا ہے۔کیونکہ اول تو ہر دو الہامات میں لفظ ” بمنزلة “ موجود ہے۔نیز حضرت مرزا صاحب علیہ السلام خود تحریر فرماتے ہیں :- (الف) خدا تعالیٰ بیٹوں سے پاک ہے اور یہ کلمہ بطور استعارہ کے ہے۔چونکہ اس زمانہ میں ایسے ایسے الفاظ سے نادان عیسائیوں نے حضرت عیسی کو خدا ٹھہرا رکھا ہے اس لئے مصلحتِ الہی نے یہ چاہا کہ اُس سے بڑھ کر الفاظ اس عاجز کے لئے استعمال کرے تا عیسائیوں کی آنکھیں کھلیں اور وہ سمجھیں کہ وہ الفاظ جن سے میسیج کو وہ خدا بناتے ہیں اس اُمت میں بھی ایک ہے جس کی نسبت اس سے بڑھ کر ایسے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔(حقیقة الوحی صفحه ۸۶ حاشیه ) (ب) یادر ہے خدائے تعالیٰ بیٹوں سے پاک ہے۔نہ اس کا کوئی شریک ہے اور نہ بیٹا ہے اور نہ کسی کو حق پہنچتا ہے کہ وہ یہ کہے کہ میں خدا ہوں یا خدا کا بیٹا ہوں۔لیکن یہ فقرہ اِس جگہ قبیل مجاز اور استعارہ میں سے ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دیا اللہ 153)