تفہیماتِ ربانیّہ — Page 150
گویا حضرت مرزا صاحب با وجود متذکرہ صدر مذہب کے اپنے الہامات کے متعلق یقین کامل اور بصیرت تامہ رکھتے تھے کہ وہ صحیح ، منجانب اللہ اور شریعت کے مطابق ہیں۔چنانچہ حضور فرماتے ہیں :- " وَالْهِمْتُ مِنَ اللهِ الرَّحْمَنِ فَقَبِلْتُهُ عَلَى شَرِيطَةِ الصَّحَّةِ وَالصَّوَابِ وَالسّمتِ وَقَدْ كُشِفَ عَلَيَّ أَنَّهُ صَحِيحٌ خَالِصٌ يُوَافِقُ الشَّرِيعَةَ لَا رَيْبَ فِيهِ وَلَا لُبُسَ وَلَا ،، شَكٍّ وَلَا شُبهة۔“ ( دافع الوساوس صفحہ ۲۱) جس کا ترجمہ منشی محمد یعقوب صاحب نے بھی حسب ذیل لکھا ہے :- ”میرے تمام الہام صیح ، خالص، اور موافق شریعت ہیں جن میں کسی شک وشبہ کو دخل نہیں ہے۔“ (عشرہ صفحہ ۴۵) مندرجہ بالا بیانات سے صاف عیاں ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کسی مذہب ہے اور یہ کہ آپ کے الہامات و کشوف میں سے ایک بھی شریعت کے خلاف نہیں۔ہاں حسب ارشاد الہی ٹیڑھے دلوں والے آپ کی طرف یہ الزام منسوب کرتے ہیں۔مگر یہ کوئی نئی بات نہیں کیونکہ اُمت کے اولیاء ہمیشہ سے ان ظاہر پرست علماء کے ہاتھوں ستائے گئے اور ان کے الہامات و کشوف کو خلاف شریعت قرار دیا گیا ہے حالانکہ وہ الہامات اور کشوف شریعت کے خلاف نہیں تھے اور نہ ہو سکتے ہیں۔ہاں حقیقت سے دُور لوگوں کے خشک خیالات کے ضرور خلاف تھے۔افسوس کہ یہ لوگ اپنے خیالات کو شریعت قرار دیکر شریعت اسلامیہ کے نام پر پاکبازوں کا خون کرتے رہے۔ان کو پابند قیود وسلاسل کرتے رہے ، اور ان کی تکفیر تفسیق کرتے رہے۔انہی حالات کو دیکھ کر حضرت جنید نے فرمایا تھا :- " لَا يَبْلُغُ أَحَدٌ دَرَجَ الْحَقِيقَةِ حَتَّى يَشْهَدَ فِيْهِ أَلْفُ صِدِّيْقٍ بِانَّهُ زِنْدِيقُ وَذَالِكَ لأَنَّهُ إِذَا نَطَقَ بِعُلُوْمِ الْأَسْرَارِلَا يَسَعُ الصَّدِّيقِينَ إِلَّا أَنْ يُنْكِرُوا عَلَيْهِ غَيْرَةً عَلَى ظَاهِرِ الشَّرِيعَةِ الْمُطَهَّرَةِ “ الیواقیت والجواہر مصنفہ امام شعرانی جلد ا صفحه ۳۲) 150