تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 151 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 151

کہ کوئی معرفت تامہ کو حاصل نہیں کر سکتا جب تک سینکڑوں راستباز بننے والے اور ہزاروں وارث انبیاء کہلانے والے ظاہر پرست علماء اسے زندیق اور بے دین نہ قرار دیں۔کیونکہ جب وہ صوفی علوم الاسرار بیان کرے گا تو وہ لوگ شریعت کے ظاہر پر غیرت کھا کر اس کے خلاف بُرا بھلا کہنے لگ پڑیں گے۔“ اسی صفحہ پر رئیس الصوفیہ حضرت شیخ محی الدین کا قول لکھا ہے :- " لَقَدْ وَقَعَ لَنَا وَلِلْعَارِفِينَ أَمُورُ وَمِحَنُ بِوَاسِطَةِ إِظْهَارِنَا الْمَعَارِفَ وَالْأَسْرَارَ وَشَهِدُوا فِيْنَا بِالزَنْدِقَةِ وَأَذَوْنَا أَشَدَّ الْآذِي “ کہ ان ظاہر پرست لوگوں کے ہاتھوں ہم اور دوسرے تمام عارف لوگ معارف و اسرار کے اظہار کے باعث ستائے گئے ہمیں زندیق قرار دیا گیا اور سخت دُکھ دیا گیا۔“ پس حقیقت یہی ہے کہ لوگ نادانی اور اس کو چہ معرفت کی نا آشنائی کے باعث ایسا کہتے رہے ہیں۔ورنہ متقی ،صوفی اور شریعت کی خلاف ورزی؟ ع ایں خیال است و محال است و جنوں اہل اللہ کی باتیں اور مخالفت شریعت صوفیاء کے ہاں یہ مسلمہ قانون ہے :۔"كُل حَقِيقَةٍ رَدَّتْهَا شَرِيْعَةً فَهِيَ زَندِقَةً “ ،، (فتوح الغیب صفحہ ۷۶ مقاله ۱۰) کہ جو بات بھی خلاف شریعت ہو وہ الحاد و بے دینی ہے، نہ کہ حقیقت مگر بایں ہمہ انہوں نے عوام کو ہمیشہ یہی نصیحت کی ہے کہ :- در حقیقت سرے کہ اولیاء اللہ را بجناب عزت حق است هیچکس را بدان راه نیست (شرح فتوح الغیب صفحه ۲۱) پھر حضرت سید عبد القادر صاحب جیلانی کے مقالہ ۷۳ کے خاتمہ پر بطور شرح لکھا ہے :- دریس کلام تنبیه است بر منع از مبادرت بردوانکار بر افعال و اقوال 151