تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 142 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 142

ملٹری گزٹ ۱/۶ اپریل ۱۹۰۷ ء میں بھی اس کا کافی تذکرہ ہے۔اس پر روزانہ اخبار عام لاہور نے لکھا :- قدرت کے عجائبات پر عقل انسان دنگ ہے انسان کی حقیقت ہی کیا ہے۔بیان کیا جاتا ہے کہ ان دنوں آسمان سے عجیب آثار دکھائی دیتے ہیں۔مرزائے قادیان پیشگوئی کرتے ہیں کہ کوئی بڑا نشان خدائی جلال کا وقوع میں آنا چاہتا ہے۔انگریزی اخبار میں بھی لکھا ہے کہ کئی مقامات پر تارے ٹوٹنے کی سی روشنی دکھائی دی سیکئی لوگ اس کو شہاب ثاقب بتلاتے ہیں۔مختلف اخبارات میں طرح طرح کی خبریں ہیں۔اور یہی نہیں بلکہ انگریزی اخبارات میں بھی اس کی کیفیت دی گئی ہے جموں سے خبر دیتا ہے آسمان سے ایک آگ کا گولہ گرا۔بڑی بھاری آواز تھی جیسے کوئی بڑی توپ چلتی ہے اور اس آواز سے شہر پل گیا۔لوگ گھبرا اُٹھے کہ یہ کیا معاملہ ہے۔گوجرانوالہ میں ایک تو دہ آگ کا اگر تا ہوا دیکھا گیا۔(بحوالہ اخبار بدر ا ا ر ا پریل ۱۹۰۷) کیا اس قدر کھلے نشان کے باوجود آنکھیں بند کی جاسکتی ہیں؟ مگر افسوس ان پر جن کے حق میں کہا گیا ہے۔وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا نشاں کو دیکھ کر انکار کب تک پیش جائیگا ارے اک اور جھوٹوں پر قیامت آنیوالی ہے تیسرا اعتراض۔الہام ” ایک ہفتہ تک کوئی باقی نہ رہے گا “ پر بھی نتیجہ ندارد “ لکھا ہے۔حالانکہ اس الہام میں صاف طور پر عمر دنیا کی طرف اشارہ ہے۔یعنی سات ہزار برس کے بعد دنیا کا دور ختم ہو جائے گا کیونکہ خدا کا ایک دن ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس الہام کے متعلق جو فر مایا تھا وہ حسب ذیل ہے :۔ابھی ٹھیک طور پر نہیں کہہ سکتے کہ اس الہام میں ہفتہ سے کیا مراد ہے اور یہ کس کے متعلق ہے۔حضرت مولوی نورالدین صاحب نے فرمایا کہ بعض اِس قسم کے الہامات کسی خاص مکان اور خاص زمانہ کے متعلق ہوتے ہیں۔(حضرت مسیح موعود) نے فرمایا درست ہے۔دانیال کی کتاب میں صدبا سال کو ہفتہ کہا گیا ہے اور دنیا کی عمر بھی ایک ہفتہ بتلائی گئی ہے۔اس جگہ ہفتہ سے (142)