تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 141 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 141

دوسرا اعتراض معترض نے نے مارچ ۹۰۷اب کا الہام ” پچیس دن یا پچیس دن تک“ نقل کر کے لکھا ہے کہ نتیجہ نا معلوم (عشرہ صفحہ ۴۳) الجواب۔اس ریمارک میں معترض پٹیالوی نے سخت خیانت سے کام لیا ہے کیونکہ یہ الہام اخبار بدر ۱۴ مارچ ۱۹۰۷ء میں درج ہوا ہے اور وہاں پر نتیجہ کے متعلق صاف لکھا ہے :- پچیس دن کے الہام میں یہ اشارہ ہے کہ لے مارچ سے پچیس دن پورے ہونے کے سر پر یاے / مارچ ۱۹۰۷ ء سے پچیس دن تک کوئی نیا واقعہ ظاہر ہوگا مگر یہ سوال کہ وہ واقعہ کیا ہے جس کی پیشگوئی کی گئی ہے اس کا ہم اس وقت کچھ بھی جواب نہیں دے سکتے بجز اس کے کہ یہ کہیں کہ کوئی ہولناک یا تعجب انگیز واقعہ ہے کہ ظہور کے بعد پیشگوئی کے رنگ میں واقع ہو جائے گا۔( بدر ۱۴ مارچ ۱۹۰۷ صفحہ ۳) یہ پیشگوئی کس صفائی سے پوری ہوئی اس کی تفصیل کے لئے تمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۸۱ لغایت صفحه ۹۶ ملاحظہ فرمائیں۔مختصر یہ ہے کہ ایک ہولناک واقعہ ظاہر ہوا یعنی ٹھیک ۳۱ / مارچ ۱۹۰۷ ء بعد دو پہر ایک ہیبتناک آسمانی گولہ گرا جس سے بہت سے لوگ بے ہوش ہو گئے۔اور یہ شہاب ثاقب مختلف شہروں اور دُور دُور تک نظر آیا۔انگریزی اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ اپنے پرچہ ۱/۳ اپریل ۱۹۰۷ بو میں لکھتا ہے :- کئی نامہ نگاروں نے ہمیں اس شہاب کے متعلق خطوط لکھے ہیں جو اتوار ۳۱ مارچ) کی شام کو پونے پانچ بجے کے قریب دیکھا گیا۔یہ نہایت چمکدار تھا۔اور لاہور میں جب یہ گرتا دیکھا گیا تو اسکے پیچھے ایک بہت لمبی دوہری دھار ایسی تھی جیسے دھواں ہوتا ہے۔راولپنڈی میں یہ جنوب مشرق کی طرف نظر آیا۔اس وقت دھوپ نہایت تیز تھی۔ہمارے بعض نامہ نگار یہ دریافت کرتے ہیں کہ آیا اس سے پہلے بھی کبھی کوئی ایسا شہاب دیکھا گیا ہے جو ان حالات کے ماتحت نظر آیا ہو۔اور بعض یہ لکھتے ہیں کہ اگر غروب آفتاب کے بعد یہ واقعہ دیکھا جاتا تو اس کی چمک واقعی بے نظیر ہوتی۔“ علاوہ ازیں آرمی نیوز لدھیانہ (انگریزی اخبار ) مورخہ ۶ را پریل ۱۹۰۷ ء صفحہ ۱۱، اور سول اینڈ 141