تفہیماتِ ربانیّہ — Page 118
(مصائب و آفات ) قرآن مجید نے جنگ احزاب کو زلزلہ قرار دیا ہے چنانچہ مومنوں کے متعلق فرمایا۔هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا ( احزاب رکوع ۲) کہ اس وقت ان پر خوفناک زلزلہ آیا تھا۔اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن سلام فرماتے ہیں :- " مَعْنَى زُلْزِلُوا حُرِّكُوا بِالْخَوْفِ تَحْرِيْئًا شَدِيدَ أَبَلِيْنًا“ (فتح البیان جلد ۷ صفحہ ۲۵۸) یعنی صحابہ پر زلزلہ آنے کا یہ مطلب ہے کہ اُن کو سخت خوف کے ساتھ آزمایا گیا گویا ان کو ہلا دیا گیا۔حضرت مسیح موعود کے نزدیک زلزلہ کے معنی (الف) حضور عام اصول کے ما تحت تحریر فرماتے ہیں :- ”ہاں میں جیسا کہ میرا مذہب ہے بار بار یہ بھی کہہ چکا ہوں کہ پیشگوئیوں میں قطعی طور پر یہ دعوی نہیں ہوسکتا کہ ضرور ان کا ایک ہی خاص پہلو پر ظہور ہوگا۔ممکن ہے کہ خدا تعالی علیم و حکیم کوئی دوسرا پہلوان کے ظہور کے لئے اختیار کرے جس میں وہی عظمت اور قوت اور ہولناک صورت پائی جائے جس پر پیشگوئی دلالت کرتی ہو۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحه ۱۰۶) (ب) زلزلہ سے زمین کا ہلنا مراد لیکر تحریر فرماتے ہیں :۔یہ تو ہمارا اجتہاد ہے اور بعد اس کے خدا تعالیٰ کے اسرار مخفی کو خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے اور ممکن ہے کہ آگے چل کر وہ اس سے زیادہ ہم پر کھولدے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“ (ضمیمه برا این صفحه ۹۹) (ج) اغلب طور پر زلزلہ کے لفظ سے مراد زلزلہ ہی ہے مگر ممکن ہے کہ قدیم سنت اللہ کے موافق ان الفاظ سے کوئی اور ایسی شدید اور خارق عادت اور سخت تباہی ڈالنے والی آفت مراد ہو جو زلزلہ کا رنگ اور خاصیت اپنے اندر رکھتی ہو۔کیونکہ خدا تعالی کے کلام میں استعارات بھی اکثر پائے جاتے ہیں۔“ (ضمیمہ براہین صفحہ ۹۶) (3) " ظن غالب کے طور پر زلزلہ سے مراد ہماری پیش گوئیوں میں زلزلہ ہی ہے اور اگر وہ نہ ہو تو ایسی خارق عادت آفت مراد ہے جو زلزلہ سے شدید (118)