تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 119 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 119

مناسبت رکھتی ہو اور پورے طور پر زلزلہ کا رنگ اُس کے اندر موجود ہو۔“ (صفحہ مذکور ) نوٹ۔قرآن مجید نے جنگ کو شدید مناسبت کی وجہ سے ہی زلزلہ قرار دیا ہے بلکہ ایک جگہ جنگ کا آخری نتیجہ ان الفاظ میں مذکور ہے :- إنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةً وَكَذَلِكَ يَفْعَلُونَ (النمل رکوع ۳) گویا وہ معنوی زلزلہ ہوتا ہے۔(3) پھر حضور تحریر فرماتے ہیں کہ :- دو E ممکن ہے کہ یہ معمولی زلزلہ نہ ہو بلکہ کوئی اور شدید آفت ہو جو قیامت کا نظارہ دکھلاوے جس کی نظیر کبھی اس زمانہ نے نہ دیکھی ہو۔اور جانوں اور عمارتوں پر سخت تباہی آوے۔(براہین حصہ پنجم صفحہ ۱۲۰ حاشیہ) ان حوالجات سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اس پیشگوئی میں زلزلہ سے مراد زلزلہ ہی نہیں بلکہ کوئی اور خوفناک اور شدید آفت مراد ہے۔واقعات نے بتادیا کہ وہ عظیم الشان زلزلہ ، اور قیامت خیز زلزلہ، ہفت ساله جنگ یورپ تھی جو ۱۹۱۴ء میں شروع ہوئی اور سات سال تک لاکھوں نفوس کو کھاتی رہی۔شہر ویران ہو گئے ، آبادیاں کھنڈرات بن گئیں ، بے شمار انسان بے خانماں اور بے وطن ہو گئے، لاکھوں عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہو گئے۔غرض ایک ہیبت ناک اور پر رعب واقعہ ہے جو دنیا کی تاریخ میں بے نظیر ہے۔ہاں اس واقعہ کی شان بہت ہی بلند ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ اسی جنگ کے نتیجہ میں روس کی عظیم الشان طاقت پارہ پارہ ہو گئی اور زار روس نہایت ہی ابتر اور زار حالت میں قتل کر دیا گیا، اس کی بیٹیوں کے ساتھ اس کے سامنے نہایت شرمناک افعال کا ارتکاب کیا گیا اور نہایت ہی اذیت کے ساتھ اس خاندان کا خاتمہ ہوا۔اہلِ دُنیا نے جب پہلی مرتبہ اِس لرزا دینے والی اور کپکپا دینے والی داستان کو ے انگریزی اور اردو اخبارات بالاتفاق اعلان کر چکے ہیں کہ تاریخ دنیا میں یہ جنگ اپنی نظیر آپ ہے تمام مدبر اس کو تسلیم کرتے ہیں۔مؤلف (119)