تفہیماتِ ربانیّہ — Page 117
بَشَرُ أُخْطِئُ وَأُصِيْبُ ذَكَرَهُ الْقَاضِي عِيَاضُ۔نبراس شرح الشرح لعقائد نسفی صفحه ۳۹۲) کہ نبی کریم جب اجتہاد کرتے تھے تو وہ کبھی خطا بھی ہوتا تھا جیسا کہ اصولیوں نے ذکر کیا۔حضور ان امور میں صحابہ سے مشورہ فرماتے جن میں وحی نازل نہ ہوتی۔حدیث میں حضور نے خود فرمایا ہے کہ اے لوگو! جو وحی میں خدا کی طرف سے بتاؤں وہ بلا ریب درست ہوگی۔ہاں جو میں وحی کے متعلق اجتہاد کروں تو اس کی ذمہ واری مجھ پر ہے۔میں بشر ہوں غلطی بھی کرتا ہوں اور درست اجتہاد بھی کرتا ہوں۔“ اس حقیقت کے پیش نظر اگر ہمارے مخالفین کو کسی جگہ یہ خیال گزرے کہ حضرت مسیح موعود نے قیامت خیز زلزلہ (سب سے آخری اور بڑے زلزلہ ) کے وقوع کو اپنی زندگی سے ہی مقید فرمایا ہے تو الہامات کی روشنی میں وہ حضور کا اپنا اجتہاد قرار پائیگا ویس۔زلزلة الساعة کب آیا ؟ اور اس کی حقیقت ہم بتا چکے ہیں کہ زلزلة الساعة“ کیلئے زندگی کی قید الہامی عبارت سے ثابت نہیں اور حضرت نے جس زلزلہ کے لئے زندگی کی قید لگائی تھی وہ موسم بہار کا زلزلہ تھا جو ۲۸ فروری ۱۹۰۲ء کو واقع ہو گیا۔اس کے متعلق ہم خود حضرت مسیح موعود کے حوالجات پیش کر چکے ہیں۔اگر چہ مندرجہ بالا بیان سے عشرہ کاملہ کا اعتراض غلط ثابت ہو گیا ہے لیکن تاہم زلزلة الساعة“ والی پیشگوئی پر مختصر روشنی ڈالنی ضروری ہے۔زلزلہ کے معنی۔یادر ہے کہ عربی زبان میں لفظ ز لزلہ“ کے معنی خوفناک طور پر حرکت کے ہیں۔علامہ محمد طاہر لکھتے ہیں :- الزَّلْزَلَةُ لُغَةُ الْحَرُكَةُ الْعَظِيمَةُ وَالْإِزعاج الشَّدِيدُ۔( مجمع الجار جلد ۲ صفحہ ۲۵) کہ از روئے لغت اصل میں زلزلہ حرکت عظیمہ کو کہتے ہیں۔اور پھر اس کے ماتحت زلزلہ کے معنی ہر لغت میں دو بیان کئے گئے ہیں۔اول زمین کا ہلنا ، دوم خطرناک اور لرزادینے والی مصیبت المنجد میں الزلزلة “ کے ماتحت لکھا ہے :- ارْتِجَافُ الْأَرْضِ وَاهْتِزَازُهَا (زمین کا ہلنا ) الشَّدَائِدُ وَالْأَهْوَالُ (117)